امام سعید بن مسیب کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے مسئلے پر تحقیق



  

القول الصواب في سماع ابن المسيب من عمر ابن الخطاب
رضي الله عنه

  

امام سعید بن مسیب کا سیدنا  عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے مسئلے پر تحقیق

 




مقدمہ

تعارف:

امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے۔ انہیں سید التابعین بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام تابعین میں سب سے بڑے عالم تھے،  یہاں تک کہ ان سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی فتوی پوچھا کرتے تھے۔

سعید بن مسیب کی مرسل روایات تمام محدثین کے نزدیک اصح المراسیل ہیں اور انہیں عام قبولیت حاصل ہے۔ یہاں تک کہ امام شافعی جو کہ مراسیل کے بارے میں سب سے سخت موقف رکھتے تھے انہوں نے بھی سعید بن مسیب کی مراسیل کو صحیح قرار دیا ہے۔

اس مقالے میں ہم سعید بن مسیب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت وسماع کے بارے میں بحث کریں گے۔ اس  مسئلے پر اختلاف علماء کے درمیان مشہور ہے۔  چنانچہ ہم ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال کی روشنی میں اس مسئلے میں راجح قول کی طرف نشاندہی کریں گے۔

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ امام سعید بن المسیب کا عمر رضی اللہ عنہ سے حسی یا لفظی سماع ثابت  ہے البتہ اصطلاحی سماع ثابت نہیں ہے۔ یعنی انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر اعلان کرتے ہوئے سنا تھا، نیز ممکن ہے انہوں نے ان کا دیگر کلام بھی سنا ہو لیکن اپنی چھوٹی عمر کی وجہ سے انہوں نے ان سے کوئی روایت محفوظ نہیں کی ہے۔ چنانچہ اصطلاحی سماع کی صحت کے لئے لازم ہے کہ راوی اسے سمجھ سکے اور اسے محفوظ کر سکے۔ جبکہ سعید بن مسیب سے کوئی روایت براہ راست عمر رضی اللہ عنہ سے محفوظ کرنا ثابت نہیں ہے۔

 وہ اس لئے کہ وہ عمر کی وفات کے وقت تقریبا آٹھ سال کے بچے تھے، جبکہ وہ ان سے بکثرت روایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایات عمومی طور پر حجت تسلیم کی جاتی ہیں، کیونکہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے اقوال کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور ان کے اور عمر کے درمیان کا واسطہ معتبر تصور کیا جاتا ہے، الا یہ کہ کہیں کوئی دلیل اس کے خلاف مل جائے۔

تقسیم ابحاث:

اس مسئلے پر بحث پانچ حصوں پر مشتمل ہے:

1-   سعید بن مسیب  کی سنہ ولادت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کا اس سے تعلق

2-    سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع پر ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال
اس میں تین فصلیں ہیں:

پہلی: سماع کے اثبات میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال

دوسری: سماع کے انکار میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال

تیسری: محدود سماع پر ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال

3-    سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ورؤیت  پر وارد دلائل

4-    سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا جائزہ، اور ائمہ کے اقوال کی تطبیق

5-    سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایات میں انقطاع کے باوجود ان کا حجت ہونا

بحث اول:
سعید بن مسیب  کی سنہ ولادت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کا اس سے تعلق

 

امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں:

حَدثنَا سُفْيَان بن عُيَيْنَة عَن يحيى بن سعيد إِن شَاءَ الله قَالَ سَمِعت سعيد بن الْمسيب يَقُول ولدت لِسنتَيْنِ مضتا من خلَافَة عمر

سفیان بن عیینہ نے ہمیں ان شاء اللہ یحیی بن سعید (الانصاری) کے ذریعے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا: "میری ولادت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی۔"

(العلل ومعرفۃ الرجال لاحمد روایۃ عبد اللہ: 1/149)

امام احمد کے طریق سے اس قول کو امام ابن ابی خیثمہ نے التاریخ الکبیر (السفر الثالث: 2/103)، امام ابن ابی حاتم نے کتاب المراسیل (253)، اور ابن عبد البر نے کتاب التمہید (6/304) میں بھی نقل کیا ہے۔

اس کی اسناد صحیح ہے۔ امام احمد نے اس روایت میں ابن عیینہ کی یحیی الانصاری سے روایت کو جزما بیان نہیں کیا ہے۔ البتہ اس روایت کو ایک دوسرے طریق سے امام ابن سعد نے بھی روایت کیا ہے۔

چنانچہ امام ابن سعد رحمہ اللہ نے فرمایا:

أخبرنا سعيد بن منصور قال: حدثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر بن الخطاب. وكانت خلافته عشر سنين وأربعة أشهر

سعید بن منصور نے ہمیں خبر دی، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں روایت بیان کی، انہوں نے یحیی بن سعید، انہوں نے سعید بن المسیب سے روایت بیان کی، سعید نے کہا: "میری ولادت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی" اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور دس سال اور چار مہینے ہے۔

(الطبقات الکبری لابن سعد:  5/90)

اس روایت میں سعید بن منصور نے شک نہیں کیا ہے۔

اسی طرح امام علی المدینی رحمہ اللہ نے بھی اس قول کو سفیان بن عیینہ سے نقل کیا ہے۔ چنانچہ امام ابو سلیمان الربعی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:

أخبرنا أبي حدثنا اسماعيل بن اسحاق حدثنا علي بن عبد الله بن جعفر المديني حدثنا سفيان عن يحيى بن سعيد قال سمعت سعيد بن المسيب يقول ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر

میرے والد نے ہمیں خبر دی، اسماعیل بن اسحاق (بن اسماعیل بن حماد بن زید القاضی) نے ہمیں روایت بیان کی، علی بن عبد اللہ بن جعفر المدینی نے ہمیں روایت بیان کی، سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے یحیی بن سعید (الانصاری)  سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن المسیب کو کہتے سنا: "میری ولادت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور سال گزرنے کے بعد ہوئی۔"

(تاریخ مولد العلماء ووفیاتہم: 1/100)

نیز امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی بھی اس روایت میں متابعت کی گئی ہے۔ امام احمد بن منیع اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں:

حدثنا أبو معاوية، عن يحيى ابن سعيد، عن سعيد بن المسيب قال: ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر رضي الله عنه.

ابو معاویہ (محمد بن خازم الضریر) نے ہمیں روایت بیان کی، انہوں نے یحیی بن سعید (الانصاری) سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: "میری ولادت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی۔"

(بحوالہ المطالب العالیہ:4088)

لہذا  یہ روایت بالکل صحیح وثابت ہے۔ امام سعید کی ولادت کے بارے میں اس قول پر تمام محدثین نے اتفاق کیا ہے۔

چنانچہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

هذا أشهر شيء في مولده وأصحه وقد قيل ولد لسنتين بقيتا من خلافة عمر وعلى الأول أهل الأثر

"سعید کی ولادت کے بارے میں یہ قول سب سے مشہور اور صحیح ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی ولادت تب ہوئی جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی بچے تھے، جبکہ اہل الاثر (یعنی محدثین) پہلے قول کے قائل ہیں۔"

(التمہید: 6/301)

اس کے برعکس امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس روایت پر طعن کیا ہے، چنانچہ امام دوری فرماتے ہیں:

" سمعت يحيى يقول في حديث سعيد بن المسيب أنه رأى عمر بن الخطاب فلم يثبت له سماعا فقلت أليس يروى عن سعيد بن المسيب أنه قال ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر فقال ليس هذا بشيء ولم يثبت له من عمر سماعا "

"میں نے یحیی (بن معین) کو سعید بن مسیب کی حدیث کے بارے میں کہتے سنا کہ انہوں نےعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، لیکن یحیی نے ان کے سماع کا اثبات نہیں کیا۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا سعید بن مسیب سے یہ مروی نہیں کہ انہوں نے کہا میری ولادت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی، تو انہوں نے فرمایا: یہ کوئی چیز نہیں، اور انہوں نے سعید کا عمر سے سماع کا اثبات نہیں کیا۔"

(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 999)

البتہ امام یحیی بن معین کے اس قول میں اس قول کے ثبوت پر طعن نہیں کیا گیا، کیونکہ ایک دوسری روایت میں امام ابن معین نے خود اس کا اثبات کیا ہے۔ بلکہ یہاں "لیس بشیء" سے ان کی مراد اس قول سے سماع پر استدلال کرنے پر طعن کرنا ہے،  کہ اتنی سی عمر میں سعید کا سماع کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ان کی صغر سنی کے سبب اس قول سے اثباتِ سماع کا اقرار کرنے پر طعن ہے۔

چنانچہ اس قول سے ثابت ہوا کہ سعید بن مسیب کی ولادت  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی۔

سیدنا عمر رضی اللہ نے 13 ھ میں منصب خلافت سنبھالی۔ اور ان کی خلافت کی مدت ان کی وفات تک 10 سال اور چار مہینے ہے۔

امام سعید بن المسیب ان کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد پیدا ہوئے، چنانچہ ان کی ولادت 15 ھ کو ہوئی۔

اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کی عمر تقریبا 8 سال بنتی ہے۔

اس عمر میں سعید کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کم از کم دیکھنا تو ثابت ہے؛ امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا گیا، کیا آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: "ہاں"

امام ابن عبد البر روایت کرتے ہیں:

حدثني عبد الوارث بن سفيان قال حدثنا قاسم بن أصبغ قال حدثنا ابن وضاح قال حدثنا نصر بن المهاجر قال حدثنا عبد الصمد قال حدثنا شعبة عن قتادة قال قلت لسعيد بن المسيب رأيت عمر بن الخطاب قال نعم

"قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا: کیا آپ نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں"

(التمہید: 23/93، واسنادہ صحیح )

اس روایت سے کم از کم سعید کی رؤیت خود ان کی زبانی ثابت ہوتی ہے۔

البتہ کیا آٹھ سال کے بچے کا سماع جائز ہے؟ اس پر بحث درج ذیل ہے:

تحمل علم کی کم سے کم عمر کا تعین:

محدثین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ صحتِ سماع کے لئے کم  سے کم عمر کیا ہے؟

بعض کے نزدیک سماع کی حد 15 سال ہے، بعض کے نزدیک 14 سال ہے۔

موسی بن ہارون فرماتے ہیں کہ اہل بصرہ کے نزدیک کتابت کی عمر 10 سال ہے، اہل کوفہ کے نزدیک 20 سال ہے، اور اہل شام کے نزدیک 30 سال ہے۔ (الکفایہ للخطیب: ص 55)

امام ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "تحمل (علم) کی کم سے کم عمر 15 سال ہے" (الکفایہ: ص 61)

البتہ راجح قول کے مطابق اس سے کم عمر کے بچے کا سماع بھی درست ہے۔  امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ بچے کا حدیث میں سماع کب جائز ہو گا، تو انہوں نے فرمایا:

" إذا عقل وضبط " جب وہ سمجھ سکے اور ضبط کر سکے۔

نیز ان کے سامنے 15 سال والا قول بیان کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

" بئس القول يجوز سماعه إذا عقل فكيف يصنع بسفيان بن عيينة ووكيع "

"یہ قول بُرا ہے، اس کا سماع تب جائز ہے جب وہ سمجھ سکے، (ورنہ) سفیان بن عیینہ اور وکیع کا کیا ہو گا؟"

(الکفایہ: ص 61)

امام وکیع نے جب طلب علم کا آغاز کیا تو ان کی عمر آٹھ سال تھی۔

اور امام ابن عیینہ کی عمر 10 سال تھی۔ امام زہری نے جب امام ابن عیینہ کو ان کی مجلس میں دیکھا تو کہا: "میں نے اس سے چھوٹا طالب علم نہیں دیکھا۔" (الکفایہ: ص 60)۔

اسی طرح صغار صحابہ میں سے بعض کا ذکر درج ذیل ہے جن کا رسول اللہ ﷺ سے سماع صحیح تسلیم کیا جاتا ہے:

1-   عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی عمر رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت 9 سال تھی۔

2-    النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی عمر بھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت 9 سال تھی۔

3-    ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی عمر رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت 8 سال تھی۔

4-    مسلمہ بن مخلد رضی اللہ کی عمر 10 سال تھی۔ اور ایک روایت کے مطابق 14 سال تھی۔

5-    عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی عمر 9 سال تھی۔

6-    ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر  15 سال تھی۔

7-    حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عمر تقریبا 7 سال تھی۔

8-    حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عمر تقریبا 6 سال تھی۔

9-    محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ کی عمر 5 سال تھی۔

چنانچہ محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ سب سے صغیر صحابی ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست کچھ حفظ کیا ہے۔  جبکہ ان صحابہ کی اکثر روایات دیگر صحابہ کے ذریعے سے مروی ہیں۔

چنانچہ اس سے تین باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

1-   جہاں تک سماع کے اثبات کا تعلق ہے تو ان سب کا سماع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ لہٰذا اس عمر میں سماع کا اثبات ممکن ہے۔

2-    اگرچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے صغر سنی میں کچھ نہ کچھ حفظ کیا ہے، ان کی اکثر روایات دیگر صحابہ سے مروی ہیں۔ لہذا چھوٹی عمر میں کچھ سن لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی ساری روایات میں انہوں نے سماع کیا ہے۔

3-    انہوں نے صغر سنی میں جس قسم کی روایات حفظ کی ہیں وہ زیادہ تر ایسے مشاہدات اور ذاتی قصوں پر مبنی ہیں، جو اس عمر کے بچے کی عقل کے موافق ہیں۔ جیسے محمود بن الربیع کا یہ روایت کرنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرے پر پانی ڈالا۔ وغیرہ۔  نیز بچے کی عقل میں جو بات اس عمر میں سما سکتی ہو تو اس کے مطابق  ہی اس کی روایت قبول ہو گی۔

چنانچہ، امام احمد وغیرہ کے اقوال کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ:

1-   سعید بن مسیب کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنا ممکن ہے۔

2-    بچے کا سماع حدیث کرنے کی ایک شرط صرف یہ ہے کہ وہ  جو روایت کرے وہ اسے سمجھ سکے اور اسے محفوظ کر سکے۔

3-    جمہور علماء کے نزدیک سن تمییز  کی غالب حد 7 سال ہے۔ نیز ممکن ہے کہ کوئی بچہ اس سے کم عمر بھی کچھ حفظ کر لے جیسے محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ، لیکن یہ کچھ خاص حالتیں ہیں، جبکہ تغلیبی حالت 7 سال ہے، نیز اسی کا اعتبار کیا جائے گا الا یہ کہ اس کے برعکس کوئی خاص حالت ثابت ہو جائے۔

4-    اس اعتبار سے سعید بن مسیب نے سن تمییز میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا صرف ایک سال پایا ہے۔

5-    اس  سے ایک اور چیز یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگرچہ سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع عین ممکن ہے، لیکن ان کا ان سے بکثرت روایت کرنا  اور ان کے مشکل قضایا وفتاوی کو نقل کرنا اس عمر میں ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا اگر ان کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت بھی ہے تو ان کی اکثر روایات کو ان سے منقطع تسلیم کرنا پڑے گا۔

 

بحث دوم:
سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع پر ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال

سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بکثرت روایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ان کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع پر ائمہ ومحدثین سے تین قسم کے اقوال مروی ہیں:

1-   محدثین کی ایک جماعت سے بلا تفصیل مطلقا سماع کے ثبوت پر اقوال منقول ہیں، جن میں امام احمد بن حنبل، علی بن مدینی، حاکم، نووی، ابن القیم، اور ابن حجر  وغیرہ شامل ہیں۔

2-    ایک دوسری جماعت سے  رؤیت کے باوجود عدم سماع پر اقوال منقول ہیں، جن میں امام مالک، یحیی بن معین، ابو حاتم رازی، واقدی، بخاری، ابن حزم، منذری،  ذہبی اور ابن الملقن وغیرہ  شامل ہیں۔

3-    اور ایک متوسط جماعت ان میں ایسی ہے جن سے صرف بعض روایات میں سماع کے ساتھ اکثر میں انقطاع کی تصریح پر اقوال منقول ہیں۔  ان میں ابن وضاح، ابن رجب الحنبلی، اور ابن عبد البر وغیرہ شامل ہیں۔

اس تینوں قسم کے اقوال میں اس طرح سے تطبیق ممکن ہے اگر کہا جائے کہ سماع کا اثبات کرنے والوں کی مراد صرف سماع کا ثبوت یا سماع کا وجود ہے۔ اور سماع کا انکار کرنے والوں کی مراد ان کی روایات میں اصل انقطاع کا ہونا ہے اگرچہ ایک دو مواقع پر انہوں نے کچھ سنا بھی ہو، اور تیسرے قسم کے اقوال کے قائلین نے ان دونوں قسم کے اقوال میں تفصیل وتطبیق کی صحیح صورت بیان کی ہے۔

ان تینوں اقوال کی تفصیل درج ذیل ہے:

سماع کے اثبات میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال:

1- امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفی 241 ھ)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ان کے تلمیذ ابو طالب نے پوچھا:

قلت لأحمد بن حنبل: سعيد بن المسيب؟ فقال: ومن كان مثل سعيد بن المسيب؟ ثقة من أهل الخير. قلت: سعيد عن عمر حجة؟ قال: هو عندنا حجة، قد رأى عمر وسمع منه، إذا لم يقبل سعيد عن عمر فمن يقبل؟

میں نے احمد بن حنبل سے سعید بن مسیب کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: "سعید بن مسیب جیسا کون ہے؟ وہ  ثقہ اہل خیر میں سے ہیں۔" میں نے پوچھا: سعید کی عمر سے روایت حجت ہے؟ انہوں نے فرمایا: "وہ ہمارے نزدیک حجت ہیں، انہوں نے عمر کو دیکھا اور ان سے سنا ہے۔ اگر سعید کی روایت عمر رضی اللہ عنہ سے قبول نہیں کی جائے گی تو پھر کس کی قبول ہو گی؟"

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 4/61)

تبصرہ:

امام احمد کے اس قول میں صرف سعید کے سماع کا اثبات ہے۔ سماع کا اثبات تو ایک روایت سننے سے بھی ہو جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اپنی ہر روایت ان سے سنی ہے، کیونکہ سعید بن مسیب صغر سنی کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ سے کثیر الروایت ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی اکثر روایات میں قطعا انقطاع ہے۔

امام احمد نے ان کی مرسل روایت کو پھر بھی حجت اس لئے کہا ہے کیونکہ:

·        سعید بن مسیب کی مراسیل اصح المراسیل ہیں۔ امام احمد نے خود ایک دوسری جگہ ان کی مرسل روایت کو صحیح کہا ہے۔

·       سعید بن مسیب کبیر تابعی ہیں،اور یہ بھی امام احمد کے نزدیک ایک قرینہ ہے۔ کیونکہ ایک دوسری جگہ ان سے ابراہیم بن محمد بن طلحہ کی عمر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا گیا: " هذا مرسل عن عمر؟ " "کیا یہ عمر سے مرسل ہے؟" تو انہوں نے فرمایا: "نعم. ولكن إبراهيم بن محمد بن طلحة كبير " "ہاں، لیکن ابراہیم بن محمد بن طلحہ کبیر (تابعی) ہیں۔"

(شرح علل الترمذی: 1/555)

اور ابراہیم بن محمد بن طلحہ تیسرے درجے کے تابعی ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے، اور سعید سے بھی چھوٹے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امام احمد نے ان کی عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی مرسل روایت کو اس لئے حجت قرار دیا کیونکہ اپنے کبیر درجے کے سبب ان کی اکثر روایات دیگر صحابہ اور کبار تابعین سے مروی ہیں۔

چنانچہ امام احمد کے اس قول کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" ومراده أنه سمع منه شيئا يسيرا، لم يرد أنه سمع منه كل ما روى عنه، فإنه كثير الرواية عنه، ولم يسمع ذلك كله منه قطعا "

"ان کی مراد یہ ہے کہ سعید نے ان سے تھوڑا سا کچھ سنا ہے، یہ نہیں کہا کہ انہوں نے  اپنی ہر روایت  ان سے سنی ہے، کیونکہ سعید نے ان سے بکثرت روایت کی ہے، اور وہ سب انہوں نے ان سے قطعا نہیں سنی ہیں۔"

(شرح علل الترمذی: 1/552)

2- امام علی بن عبد اللہ المدینی رحمہ اللہ (المتوفی 234 ھ)

امام علی بن عبد اللہ المدینی رحمہ اللہ کے بارے میں امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے فرمایا:

"وكان علي بن المديني يصحح سماعه من عمر"

"علی بن المدینی رحمہ اللہ سعید کے سماع کو عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح کہتے تھے۔"

(التمہید: 12/94)

3- امام ابو عبد اللہ الحاکم رحمہ اللہ (المتوفی 405 ھ)

امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا:

"فأما سماع سعيد، عن عمر فمختلف فيه، وأكثر أئمتنا على أنه قد سمع منه، وهذه ترجمة معروفة في المسانيد"

"جہاں تک سعید کا عمر سے سماع کا تعلق ہے تو وہ مختلف فیہ ہے۔ ہمارے اکثر ائمہ کا موقف ہے کہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔ اور یہ ترجمہ مسانید میں معروف ہے۔"

(المستدرک علی الصحیحین: 434)

تبصرہ:

اس قول میں بھی صرف سماع کا اثبات ہے۔ اس کی کوئی تفصیل ذکر نہیں کی گئی کہ سعید کی عمر سے ہر روایت مسموع ہے (جو کہ بعید جدا ہے) یا مطلق سماع کا ہونا ثابت ہے؟

اس کے برعکس، جس حدیث کے تحت امام حاکم نے یہ قول کہا ہے اس میں انقطاع بالکل واضح ہے۔ وہ روایت اس طرح ہے:

"عن سعيد بن المسيب، قال: لما ولي عمر بن الخطاب رضي الله عنه خطب الناس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: «أيها الناس..."

"سعید بن مسیب نے کہا: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب دیا۔۔۔"

(ایضا: 1/215 ح 434)

جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نہیں بلکہ ان کا ایک قصہ نقل کیا ہے۔ اور سعید بن مسیب کا اس قصے کا ادراک کرنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی اور یہ خطبہ دیا، تب سعید بن مسیب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: شرح علل الترمذی: 2/601۔

4- امام نووی رحمہ اللہ (المتوفی 676 ھ)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ورأى عمر وسمع منه"

(تہذیب الاسماء واللغات: 1/219)

تبصرہ:

یہ قول بھی مطلق ہے اور اس میں تفصیل نہیں ہے۔ جبکہ سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے مختصر ومحدود سماع کے قائل تو اکثر ائمہ ہیں۔

5- حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (المتوفی 751 ھ)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"والصحيح أنه ولد لسنتين مضتا من خلافة عمر فيكون له وقت وفاة عمر ثمان سنين. فكيف ينكر سماعه ويقدح في اتصال روايته عنه والله الموفق للصواب"

(عون المعبود مع حاشیہ ابن القیم: 13/244)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"ولو كانت منقطعة فهذا الانقطاع غير مؤثر عند الأئمة فإن سعيدا أعلم الخلق بأقضية عمر وكان ابنه عبد الله بن عمر يسأل سعيدا عنها وسعيد بن المسيب إذا أرسل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل مرسله فكيف إذا روى عن عمر"

(9/116)

نوٹ: صاحبِ عون المعبود شیخ عظیم آبادی نے اس کے برعکس امام منذری کی تائید میں سعید کے عمر سے عدم سماع کو برقرار رکھا ہے۔ (13/148 وغیرہ)

6- حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی 852 ھ)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:

"قد وقع لي حديث بإسناد صحيح لا مطعن فيه فيه تصريح سعيد بسماعه من عمر قرأته على خديجة بنت سلطان... ثنا مسدد في مسنده عن ابن أبي عدي ثنا داود وهو بن أبي هند عن سعيد بن المسيب قال سمعت عمر بن الخطاب قال على هذا المنبر يقول عسى أن يكون بعدي أقوام يكذبون بالرجم يقولون لا نجده في كتاب الله لولا أن أزيد في كتاب الله ما ليس فيه لكتبت أنه حق قد رجم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ورجم أبو بكر ورجمت هذا الإسناد على شرط مسلم"

"میرے پاس ایک صحیح غیر مطعن اسناد واقع ہوئی ہے جس میں سعید کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح موجود ہے۔ اس کو میں نے خدیجہ بنت سطان پر پڑھا۔۔۔۔ مسدد نے اپنی مسند میں اسے ابن ابی عدی سے، انہوں نے داود بن ابی ہند سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر کہتے سنا کہ میرے بعد شاید یہ وقت بھی آئے گا جب قومیں رجم کا انکار کریں گی۔۔۔۔ یہ اسناد مسلم کی شرط پر صحیح ہے"

(تہذیب التہذیب: 4/88)

تبصرہ:

اس قول میں ابن حجر نے سعید کے عمر سے سماع کو صرف ثابت کیا ہے۔ یعنی سعید نے عمر سے سماع کیا ہے (جو کہ ایک روایت سے بھی ثابت ہو جاتا ہے) لیکن کیا انہوں نے عمر سے اپنی ہر روایت براہ راست ان سے سنی ہے؟ اس کی تصریح اس قول میں موجود نہیں ہے۔

ابن حجر نے یہ قول دراصل محمد بن عمر الواقدی کے قول کی تردید میں کہا ہے۔ الواقدی نے سعید کے عمر سے سماع کا مطلقا انکار کیا ہے، اور اس دعوے کی تردید کے لئے انہوں نے یہاں محض ان کا سماع ثابت کیا ہے۔

سماع کے انکار میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال:

1- امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ (المتوفی179 ھ)

امام ابو زرعہ الدمشقی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:

"حدثني عبد الرحمن بن إبراهيم عن الحارث بن مسكين عن ابن وهب عن مالك بن أنس قال: لم يسمع منه، ولكن حفظ علمه وأموره"

"ابن وہب نے مالک بن انس کا قول نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا: سعید نے عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں سنا، لیکن انہوں نے ان کا علم اور ان کے امور کو حفظ کیا ہے۔"

(تاریخ ابی زرعہ الدمشقی: ص 405، واسنادہ صحیح)

امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:

"حدثني محمد بن أبي زكير قال: أخبرنا ابن وهب قال: سمعت مالكا وسئل عن سعيد بن المسيب هل أدرك عمر؟ قال: لا ولكنه ولد في زمان عمر فلما كبر أكب على المسألة عن شأنه وأمره حتى كأنه رآه. قال مالك: بلغني أن عبد الله بن عمر كان يرسل إلى ابن المسيب يسأله عن بعض شأن عمر وأمره"

"ابن وہب فرماتے ہیں میں نے مالک کو سنا، ان سے سوال کیا گیا کہ سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ کا (سماع) پایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ ان کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ اور جب وہ بڑے ہوئے تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے حال واحوال کو از بر کر لیا، حتی کہ جیسے انہوں نے انہیں دیکھا ہو۔

مالک کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب کی طرف پیغام بھیجا کرتے تھے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ کی شان اور امور کے متعلق سوال کیا کرتے تھے۔"

(المعرفہ والتاریخ: 1/468، واسنادہ حسن)

شیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع امام مالک اس کے اس قول کے تحت فرماتے ہیں:

"فنفى مالك الإدراك مع إثباته ولادته في زمان عمر، وإنما يراد اصطلاحاً بالإدراك إدراك الزمان، لكن يشبه أن يكون مراد مالك إدراك السماع لصغر سنه"

"امام مالک نے سعید کی ولادت کا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اثبات کرنے کے باوجود ان کے ادراک کی نفی کی ہے۔ ادراک سے اصطلاحا زمانے کا ادراک ہی مراد ہوتا ہے، لیکن یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام مالک کی مراد سماع کا ادراک ہے، سعید  کی چھوٹی عمر کی وجہ سے"

(تحریر علوم الحدیث: ص 99)

امام یحیی بن معین نے بھی یہ قول امام مالک سے نقل کیا ہے۔ ابن محرز نقل کرتے ہیں:

"سمعت يحيى بن معين يقول قال مالك يعنى ابن انس لم يسمع سعيد بن المسيب من عمر بن الخطاب شيئا قط"

(تاریخ ابن معین، روایۃ ابن محرز: 1/128)

ایک دوسری روایت میں بھی امام مالک نے سعید کا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں پیدا ہونا ذکر کیا ہے۔

امام ابن ابی خیثمہ روایت کرتے ہیں:

"حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قال حدثنا معن بن عيسى عن مالك بن أنس أن سعيد بن المسيب ولد في زمان عمر بن الخطاب وكان احتلامه مقتل عثمان"

"مالک بن انس نے فرمایا: سعید بن مسیب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں پیدا ہوئے، اور ان کی بلوغت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقتل کے وقت ہوئی۔"

(التاریخ الکبیر، السفر الثالث: 2/103، نیز دیکھیں التمہید: 6/304، واسنادہ صحیح)

تبصرہ:

امام مالک اہل مدینہ کی روایت کے بارے میں دیگر لوگوں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ اور سعید بن مسیب کے احوال سے بھی آپ سب سے زیادہ واقف تھے۔ لہٰذا ان کا سعید کے سماع کا انکار کرنا باقی ائمہ کی نسبت زیادہ قوی ہے۔ چنانچہ امام ابن عدی رحمہ اللہ ایک مدنی راوی کے بارے میں امام مالک کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

"ومالك أعلم به لأنه مدني"

"مالک اس کے حال کو زیادہ جانتے ہیں کیونکہ وہ مدنی ہیں"

(الکامل لابن عدی: 5/502)

2- امام یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفی 233 ھ)

امام دوری فرماتے ہیں:

" سمعت يحيى يقول في حديث سعيد بن المسيب أنه رأى عمر بن الخطاب فلم يثبت له سماعا فقلت أليس يروى عن سعيد بن المسيب أنه قال ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر فقال ليس هذا بشيء ولم يثبت له من عمر سماعا "

"میں نے یحیی (بن معین) کو سعید بن مسیب کی حدیث کے بارے میں کہتے سنا کہ انہوں نےعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، لیکن یحیی نے ان کے سماع کا اثبات نہیں کیا۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا سعید بن مسیب سے یہ مروی نہیں کہ انہوں نے کہا میری ولادت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی، تو انہوں نے فرمایا: یہ کوئی چیز نہیں، اور انہوں نے سعید کا عمر سے سماع کا اثبات نہیں کیا۔"

(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 999)

اور ایک دوسری جگہ فرمایا:

"سمعت يحيى يقول سعيد بن المسيب قد رأى عمر وكان صغيرا قلت ليحيى هو يقول ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر فقال يحيى بن ثمان سنين يحفظ شيئا؟ ثم قال ها هنا قوم يقولون إنه أصلح بين على وعثمان وهذا باطل "

"میں نے یحیی کو کہتے سنا: سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ چھوٹے تھے۔ میں نے یحیی سے کہا: وہ خود یہ کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد پیدا ہوا، تو یحیی بن معین نے فرمایا: آٹھ سال کا بچہ بھی کچھ حفظ کر سکتا ہے؟۔۔۔"

(تاریخ ابن معین، روایۃ الدوری: 858، والمراسیل لابن ابی حاتم: 249)

نیز امام ابن معین کے اس دوسرے قول میں ان کے پہلے قول کی تشریح ملتی ہے کہ لیس بشئ سے ان کی کیا مراد ہے؟ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آٹھ سال کے بچے کا سماع ان کے نزدیک درست نہیں ہے، اگرچہ وہ سعید کے عمر کو دیکھنے کے قائل تھے۔

امام ابن معین کا یہ قول بعض لحاظ سے بالکل درست ہے:

1-   سعید بن مسیب کا آٹھ سال کی عمر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کثیر الروایت ہونا بعید جدا ہے۔

2-     اس  عمر میں ان کے بعض اقوال کا سننا ایک چیز ہے، اور ان کی روایات، قضایا، وفتاوی کا ناقل ہونا بالکل الگ چیز ہے۔ یہ سب چیزیں ایک آٹھ سال کے بچے کی عقل کے باہر ہیں۔

3-    سعید کے بارے میں اگر کہا جائے کہ آٹھ سال کی عمر میں ہی انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایات پر مشتمل ان  کے سارے اقوال وروایات یاد کر لیں تھیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر وقت عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے۔ بلکہ خود ان کے اصحاب سے بھی زیادہ صحبت انہوں نے پائی۔ بلکہ خود ان کے بیٹے اور صحابی جلیل، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ عمر کی قضایا کے بارے میں سعید سے پوچھو۔ گویا سعید بن مسیب نے خود ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت پائی ہو گی؟ یہ نا ممکن امر ہے۔

4-    ایک آٹھ سال کا بچہ قرآن وادب وغیرہ سیکھنے سے پہلے ایسے پیچیدہ مسائل وروایات کو کیسے یاد کر سکتا ہے؟ اور دوسری طرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت کی مصروفیات وذمے داریوں کے باوجود ایک آٹھ سال کے بچے کو اپنا خاص شاگردکیسے بنا سکتے ہیں؟

5-    سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جس کثرت سے ان کے قضایا وفتاوی نقل کیے ہیں، یہ کہنا بہت بعید ہو گا کہ یہ سب واقعات سعید کے بچپن میں ایک یا دو سال کے دوران ہی پیش آئے ہوں گے۔

3- امام ابو حاتم رازی   رحمہ اللہ (المتوفی 277 ھ)

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:

"سمعت أبي وقيل له يصح لسعيد بن المسيب سماع من عمر؟ قال لا إلا رؤيته على المنبر ينعي النعمان بن مقرن "

"میں نے اپنے والد (ابو حاتم رازی) کو سنا، ان سے کہا گیا: سعید بن مسیب کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع صحیح ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر انہوں نے انہیں دیکھا ہے منبر پر نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے"

(المراسیل: 255)

نوٹ: اس قول میں امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے سماع کا انکار کیا ہے اور ساتھ ہی میں ان کا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر اعلان کرتے سننا بھی ذکر کیا ہے اور اس کو انہوں نے صرف رؤیت سے تعبیر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حاتم کے نزدیک سعید کا عمر کو منبر پر سننے کے باوجود یہ کہنا کہ انہوں نے عمر سے نہیں سنا، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مختصر سماع ان کے نزدیک روایت کے لئے کافی نہیں ہے۔ یا پھر یہ کہ یہ سماعت اصطلاحی سماع میں شامل نہیں ہے، کیونکہ سعید نے عمر کی کوئی روایت یا الفاظ نقل نہیں کیے ہیں، صرف ان کو سننے کی خبر بیان کی ہے۔ ان سے انہوں نے کیا سنا یہ وہ محفوظ نہ کر سکے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ راوی نے کسی بزرگ سے اس کا ایک یا دو قول سنا ہو اور باقی سب میں کثرت کے باوجود ارسال ہو، تو اس کی روایت میں اصل انقطاع کو حاصل ہے۔

ایک دوسری جگہ ابن ابی حاتم نے فرمایا:

"سمعت أبي يقول سعيد بن المسيب عن عمر مرسل يدخل في المسند على المجاز "

"میں نے اپنے والد کو کہتے سنا: سعید بن مسیب کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل ہے، اسے مسند (روایات) میں بطور مجاز داخل کیا جاتا ہے"

(المراسیل: 248)

نوٹ: حافظ علائی رحمہ اللہ نے انہی الفاظ کے ساتھ یہ قول امام یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا وہم ہے۔ اصل میں یہ قول امام ابو حاتم کا ہی ہے۔

4- محمد بن عمر الواقدی عن اہل العلم

محمد بن عمر الواقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ويروى أنه سمع من عمر. ولم أر أهل العلم يصححون ذلك وإن كانوا قد رووه "

"روایت کی جاتی ہے کہ سعید نے عمر سے سنا ہے، لیکن میں نے اہل علم کو اس سماع کی تصحیح کرتے نہیں دیکھا، اگرچہ وہ اس کی روایت کرتے ہیں۔"

(الطبقات الکبری: 5/90)

نوٹ: محمد الواقدی حدیث میں ضعیف ہیں۔ البتہ بعض لوگوں کی آراء  کے برعکس وہ اقوال میں صدوق ہیں۔

5- امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی 256 ھ) کا تعامل

امام بخاری رحمہ اللہ کے تعامل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ سے سماع کو ثابت نہیں سمجھتے تھے، کیونکہ:

·       اپنی التاریخ الکبیر میں انہوں نے سعید بن مسیب کے ترجمے میں ان کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنا نقل نہیں کیا ہے، حالانکہ ایک دوسری جگہ پر انہوں نے ابراہیم بن طریف کے ترجمے میں ان کے سماع پر مشتمل ایک روایت بھی نقل کی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ابراہیم بن طریف والی روایت قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ اور سعید بن مسیب کے بارے میں اتنی اہم روایت کو ان کا سعید کے ترجمے کی بجائےایک مجہول راوی  ابراہیم بن طریف کے ترجمے میں ذکر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا اس روایت کو نقل کرنے کا مقصد اس کی نکارت کو واضح کرنا ہے۔ چنانچہ علامہ عبد العزیز الطریفی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

"أراد البخاري في كتابه التاريخ الكبير عند ذكره للراوي أن يبين الأحاديث المستنكرة عليه؛ ولهذا فإن الأصل في الأحاديث التي يوردها فيه: أنها معلولة"

(الفوائد العلمیہ: ٹیلیگرام چینل)

اس کے برعکس انہوں نے سعید بن مسیب کے ترجمے میں صرف وہ روایت پیش کی ہے جس میں ان کی رؤیت ثابت ہوتی ہے اور جس کا اقرار امام ابو حاتم وغیرہ نے بھی کیا ہے۔ یعنی جب سعید نے عمر رضی اللہ عنہ کو نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے منبر پر دیکھا تھا۔

·       اس پر مستزاد یہ کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں سعید عن عمر رضی اللہ عنہ کے طریق سے کسی بھی روایت سے احتجاج نہیں کیا ہے۔ بعض علماء نے یہ اصول بھی ذکر کیا ہے کہ کسی متکلم فیہ راوی یا طریق کی کثرت یا شہرت کے باوجود اگر شیخین اس سے  حجت نہ لیں تو یہ ان کی طرف سے اس میں علت یا ضعف کی طرف اشارہ ہے۔
اس سے ملتا جلتا کلام شیخ الطریفی نے کہا ہے وہ فرماتے ہیں:

"الراوي المكثر الذي لا يخرج له الشيخان إلا الحديث الواحد والاثنين وشبهها، ويتركا الكثير من حديثه لا ينبغي أن يحتج به علي الإطلاق لأن فيه نظر"

(الفوائد العلمیہ)

اس طرح کے اقوال محدثین کے ہاں کافی پائے جاتے ہیں۔ جیسے: "تركه البخاري" یا "لم يحتج به" وغیرہ۔

·       سعید بن مسیب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تمام روایات کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں بالواسطہ ابن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کے ذریعے سے ذکر کیا ہے۔

ایک اشکال کا جواب:

بعض لوگوں نے امام بخاری سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام بخاری نے سعید عن عمر رضی اللہ عنہ کے طریق سے اپنی صحیح میں حجت لی ہے۔اور اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ امام بخاری کے نزدیک سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے۔

اس کی دلیل میں وہ صحیح بخاری سے درج ذیل روایت پیش کرتے ہیں:

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سعيد بن المسيب، قال: مر عمر في المسجد وحسان ينشد فقال: كنت أنشد فيه، وفيه من هو خير منك، ثم التفت إلى أبي هريرة، فقال: أنشدك بالله، أسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أجب عني، اللهم أيده بروح القدس؟» قال: نعم

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ ایک دفعہ مسجد میں سے گزرے تو حضرت حسان بن ثابت ؓ اشعار پڑھ رہے تھے۔ (انھوں نے مسجد میں شعر پڑھنے پر اظہار ناپسندیدگی فرمایاتو)حسان ؓ نے کہا: میں تو اس وقت یہاں شعر پڑھا کرتا تھا جب آپ سے بہتر صفات والے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’اے حسان ؓ!میری طرف سے کفار مکہ کو جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے سے اس کی مدد فرما۔‘‘ ابوہریرۃ  ؓنے جواب دیاہاں (بلاشبہ میں نے سنا تھا)۔

(صحیح البخاری: 3212)

لیکن اس روایت سے یہ استدلال کرنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اس میں سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان نہیں کی ہے بلکہ ان کے متعلق ایک قصہ بیان کیا ہے، اور ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

 نیز اس قصے میں دو مزید صحابہ کا بھی ذکر ہیں۔ تو اس بات کی کیا دلیل ہے کہ سعید بن مسیب نے یہ روایت ان دونوں میں سے کسی سے نہیں لی ہے؟   یا پھر اس روایت میں ایسا کون سا لفظ ہے جو سعید کی عمر سے روایت پر دلالت کرتا ہے؟

اس کے برعکس دیگر روایات میں سعید بن مسیب نے بالصراحت اس روایت کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  کیا ہے۔

چنانچہ، امام مسلم اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں:

حدثنا عمرو الناقد، وإسحاق بن إبراهيم، وابن أبي عمر، كلهم عن سفيان، قال: عمرو، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد، عن أبي هريرة، أن عمر، مر بحسان وهو ينشد الشعر في المسجد

(صحیح مسلم: 1307، نیز دیکھیں: صحیح ابن خزیمہ: 1307، وصحیح ابن حبان: 1653)

مزید یہ کہ اس روایت کے شارحین میں سے بھی کسی نے اس کو سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت قرار نہیں دیا ہے، یہاں تک کہ ان کے سماع کے قائل محدثین نے بھی یہاں ان کے سماع پر دلیل نہیں لی ہے۔

·       چنانچہ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

"وهذا نوع إرسال من ابن المسيب؛ لأنه لم يشهد هذه القصة لعمر مع حسان عند أكثر العلماء الذين قالوا لم يسمع من عمر ومنهم من اثبت سماعه منه شيئا يسيرا"

"یہ سعید بن مسیب سے ارسال کی ایک قسم ہے کیونکہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کا حسان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس قصے کا مشاہدہ نہیں کیا ہے، اس کے قائل اکثر علماء ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اور ان میں بعض ایسے ہیں جو ان کے عمر رضی اللہ عنہ سے تھوڑے سے سماع کا اثبات کرتے ہیں"

(فتح الباری لابن رجب: 3/330)

نوٹ:  یہاں حافظ ابن رجب نے عدم سماع کے قائل علماء کو اکثریت میں گنا ہے۔

·       اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جو سعید کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے قائل ہیں، اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

"ورواية سعيد لهذه القصة عندهم مرسلة لأنه لم يدرك زمن المرور ولكنه يحمل على أن سعيدا سمع ذلك من أبي هريرة بعد أو من حسان "

"سعید بن مسیب کی اس قصے کی روایت علماء کے نزدیک مرسل ہے کیونکہ انہوں نے اس واقعے کا زمانہ نہیں پایا، لیکن اس کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ سعید نے اس کو بعد میں ابو ہریرہ یا حسان بن ثابت سے سن لیا ہو گا۔"

(فتح الباری لابن حجر: 1/548)

·       اور علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وسياق البخاري لهذا الحديث كما نبه عليه الإسماعيلي يقتضي أنه مرسل سعيد بن المسيب، فإنه لم يحضر مراجعة عمر -رضي الله عنه- وحسان، لكن عند الإسماعيلي من رواية عبد الجبار بن العلاء عن سفيان ما يقتضي أن أبا هريرة حدث سعيدًا بذلك بعد وقوعه "

"جیسا کہ (امام) اسماعیلی نے تنبیہ کی ہے کہ بخاری کی اس حدیث کا سیاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ سعید بن مسیب کی مرسل روایت ہے، کیونکہ وہ عمر اور حسان رضی اللہ عنہما کی مراجعت کے وقت وہاں حاضر نہیں تھے۔ لیکن اسماعیلی کے پاس عبد الجبار بن العلاء عن سفیان کے طریق سے ایک روایت موجود ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کی روایت سعید کو بعد میں کر دی تھی۔"

(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری: 5/269)

·       امام منذری نے اس حدیث کے تحت فرمایا:

"سعيد بن المسيب لم يصح سماعه من عمر، فإن كان سمع من حسان بن ثابت فمتصل"

"سعید بن مسیب کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع صحیح نہیں ہے، اگر انہوں نے اسے حسان بن ثابت سے سنا ہے تو پھر یہ متصل ہے۔"
اور امام منذری کے اس قول کو علامہ ابن رسلان الشافعی، علامہ شمس الحق عظیم آبادی، اور علامہ محمد المختار الشنقیطی رحمہم اللہ نے بطور تائید ذکر کیا ہے۔

(مختصر سنن ابی داود للمنذری: 7/293، نیز دیکھیں: شرح سنن ابی داود لابن رسلان: 19/186، عون المعبود: 13/243، شرح سنن النسائی للشینقیطی: 5/1487)

لہٰذا امام بخاری کی طرف اس  روایت میں سعید کے سماع کو منسوب کرنا بالکل غلط  اور اصول حدیث سے نا واقفیت کی علامت ہے۔

اس کے علاوہ امام بخاری نے سعید سے عمر کے اقوال پر مشتمل دو روایات نقل کیں ہیں (دیکھیں ح 475،  4454)، لیکن انہوں نے دونوں ہی بطور احتجاج نقل نہیں کی ہیں بلکہ اصل روایت کے بعد معطوفا نقل کی ہیں۔اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ دیگر جگہوں پر امام بخاری نے بہت سی مرسل اور معلق روایات کو اصل روایت کے آگے لکھ کر ان سے استشہاد کیا ہے۔

مثلا ایک جگہ انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ کی مرسل روایت بیان کی:
حدثنا إسحاق، حدثنا أبو عاصم، عن ابن جريج، قال: أخبرني حسن بن مسلم، عن مجاهد، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يوم الفتح فقال: «إن الله حرم مكة يوم خلق السموات والأرض

(صحیح البخاری: 4313)

کیا اس سے مجاہد کا رسول اللہ ﷺ سے سماع ثابت کیا جائے گا؟

اسی طرح ایک جگہ نقل کیا:

"حدثني عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها ... وقال ابن شهاب: وكان أبو هريرة يصيح بذلك "

(صحیح البخاری: 4303)

یہاں انہوں نے ابن شہاب کی اصل روایت کے بعد ان کی ابو ہریرہ سے مرسل روایت کو عطف کیا ہے۔

اسی طرح حافظ ابن حجر امام بخاری کے اس طرح کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"قلت وَحَدِيث مُوسَى عَن أبان مَعْطُوف على حَدِيثه عَن همام وَإِنَّمَا اعْتمد البُخَارِيّ حَدِيث همام وَاسْتشْهدَ لَهُ بِحَدِيث أبان لبَيَان سَماع قَتَادَة من عِكْرِمَة وَلأَجل ذَلِك لم يجمعهما عَن مُوسَى"

(تغلیق التعلیق: 788)

لہٰذا امام بخاری کو سعید کے عمر سے سماع کے قائلین میں گننا غلط فہمی ہے، اس کے برعکس ان کا تعامل اس بات کی طرف دلالت کرتا ہے کہ وہ ان کے سماع کے قائل نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔

6- امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ (المتوفی 261 ھ)

امام مسلم رحمہ اللہ کا ظاہری عمل بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے نزدیک سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع غیر ثابت ہے۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں:

·       انہوں نے سعید عن عمر رضی اللہ عنہ کے طریق سے اپنی صحیح میں حجت نہیں لی ہے۔

·       صحیح مسلم میں سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایات بالواسطہ مروی ہیں۔

·       اور ایک جگہ سعید بن مسیب کے ترجمے میں امام مسلم فرماتے ہیں:

"سعيد بن المسيب بن حزن المخزومي أدرك عليا وعثمان سمع أبا هريرة وأبا سعيد"

"سعید بن مسیب بن حزن المخزومی نے علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کا زمانہ پایا، اور ابو ہریرہ اور ابو سعید سے سماع کیا"

(الکنی والاسماء للامام مسلم: 2887)

اس قول میں امام مسلم نے واضح طور پر سعید بن مسیب کے ادراک اور سماع میں تفریق کی ہے، اور ان کے ادراک کو علی اور عثمان رضی اللہ عنہم تک محدود رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا ادراک بھی امام مسلم کے نزدیک ثابت نہیں ہے، تو سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع بالاولی غیر ثابت ہو گا۔

7- امام ابن حزم الظاہری رحمہ اللہ (المتوفی 456 ھ)

امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ولم يسمع سعيد من عمر شيئا إلا نعيه النعمان بن مقرن "

"سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا ہے سوائے ان کے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی اعلان شہادت کے"

(المحلی لابن حزم: 8/196)

8- حافظ عبد العظیم بن عبد القوی المنذری رحمہ اللہ (المتوفی 656 ھ)

امام منذری رحمہ اللہ نے فرمایا:

"سعيد بن المسيب لم يصح سماعه من عمر بن الخطاب"

(مختصر سنن ابی داود للمنذری: 1/522، 2/424، 3/329)

9- امام ذہبی   رحمہ اللہ (المتوفی  748  ھ)

امام ذہبی رحمہ اللہ سعید بن مسیب کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

"رأى عمر، وسمع: عثمان، وعليا، وزيد بن ثابت، وأبا موسى، وسعدا، وعائشة، وأبا هريرة، وابن عباس، ومحمد بن مسلمة، وأم سلمة، وخلقا سواهم.
وقيل: إنه سمع من عمر
"

"انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، جبکہ عثمان، علی، زید بن ثابت، ابو موسی، سعد، عائشہ، ابو ہریرہ، ابن عباس، محمد بن مسلمہ، ام سلمہ رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ (صحابہ کی) ایک جماعت سے سنا ہے۔
اور کہا جاتا جاتا ہے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے"

(سیر اعلام النبلاء: 4/218)

تبصرہ:

امام ذہبی کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے سماع اور رؤیت میں فرق کیا ہے، اور رؤیت کو صرف عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے جبکہ سماع کو باقیوں سے ذکر کیا ہے۔ مزید یہ کہ ان کا "قیل" کہہ کر سعید کا عمر سے سماع کو ذکر کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک ان کا سماع ثابت نہیں ہے۔

البتہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ذہبی سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے محدود سماع کے قائل ہیں۔ چنانچہ وہ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

"وسمع من عمر شيئا وهو يخطب"

"انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے جب وہ خطبہ دے رہے تھے"

(تذکرۃ الحفاظ للذہبی: 1/44)

اس قول سے ان کی مراد غالبا نعمان بن مقرن کا اعلانِ شہادت والا خطبہ ہے جیسا کہ دیگر ائمہ نے کہا ہے۔ نیز ان دونوں اقوال میں یہ تطبیق بھی ممکن ہے کہ سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بار کچھ سن لینا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان کی روایت میں اصل انقطاع ہے۔ جیسا کہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے اپنے قول میں کہا ہے۔

تذکرۃ الحفاظ ذہبی کی سب سے آخری کتب میں سے ہے اور سیر اعلام النبلاء کے بعد لکھی گئی تھی۔ لہذا  یہ بھی ممکن ہے کہ محدود سماع والے موقف پر یہ ان کی آخری رائے ہے، جبکہ اس سے پہلے وہ کسی بھی قسم کے سماع کے قائل نہ ہوں۔

اس قول میں  یہ بھی اشارہ ہے کہ امام ذہبی کے نزدیک سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ایک ہی موقع پر ثابت ہے۔ اس اعتبار سے ان کے اقوال میں پیش کی گئی مذکورہ تطبیق زیادہ مناسب ہو گی۔

10-       حافظ ابن الملقن الشافعی رحمہ اللہ (المتوفی 804)

ابن الملقن کا سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں موقف یہ ہے کہ وہ منقطع ہے۔ لیکن ایک شیخ صاحب نے ان کی ایک عبارت سے غلطی سے ان کا موقف اس کے خلاف سمجھ لیا اور انہیں سعید کے عمر سے سماع کو صحیح سمجھنے والوں میں شمار کر دیا۔

حافظ ابن الملقن کی جس عبارت سے انہیں دھوکہ ہوا وہ یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"قال البيهقي في «خلافياته» : وهو صحيح عنه. قلت: وهذا (منه يدل) على صحة سماع (سعيد منه)"

(البدر المنیر: 8/160)

تبصرہ:

البتہ یہاں ابن الملقن نے محض بیہقی کی تصحیح سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غالبا بیہقی کے نزدیک سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع صحیح ہے۔لیکن ان کا اپنا موقف اس میں شامل نہیں ہے۔

مزید یہ کہ تصحیح حدیث کے اور بھی قرائن ہیں، جن میں سب سے مشہور اور واضح سعید کا عمر کی روایات میں تخصص اور ان کی مراسیل کا صحیح ہونا ہے۔ لہٰذا اس تصحیح سے ان خود بیہقی کا موقف بھی واضح نہیں ہوتا۔

بہرحال ابن الملقن نے اپنا ذاتی موقف ایک دوسری جگہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"وسعيد بن المسيب لم يلق عمر، ولا تصح روايته عنه"

(البدر المنیر: 5/183)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"وفيها أيضا عن سعيد بن المسيب، قال: سمعت هذا من عمر، وما بقي على الأرض سمع هذا منه غيري «أنه نظر إلى البيت فقال: اللهم أنت السلام ومنك السلام (فحينا) ربنا بالسلام» وفي هذا إثبات سماع سعيد (من عمر) والمشهور خلافه"

(البدر المنیر: 6/174)

ان کے الفاظ "والمشہور خلافہ"  میں اشارہ ہے کہ وہ اس روایت میں سعید کے عمر سے سماع کو معتبر نہیں سمجھتے تھے۔ نیز اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ دیگر جگہوں پر انہوں نے سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کو منقطع قرار دیا ہے۔

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"وفي سماع ابن المسيب (من عمر) مقال"

(البدر المنیر: 8/444)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"فإن سعيد بن المسيب لم يسمع من عمر شيئا"

(البدر المنیر: 9/586)

اور اپنی دوسری کتاب میں فرمایا:

"وسعيد لم يصح سماعه من عمر، وأدرك عثمان ولا يحفظ له عنه رواية عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم"

"سعید کا سماع  عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح نہیں ہے، انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو پایا ہے لیکن ان سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث محفوظ نہیں کی۔"

(التوضیح لشرح الجامع الصحیح لابن الملقن: 5/633)

11-       علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ (المتوفی 855 ھ)

علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وَسَعِيد لم يَصح سَمَاعه عَن عمر رَضِي الله عَنهُ، وَأدْركَ عثمان وَلم يحفظ لَهُ عَنهُ رِوَايَة عَن رَسُول الله صلي الله عليه وسلم"

"سعید کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح نہیں ہے، اور انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو پایا ہے لیکن ان سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی روایت محفوظ نہیں کی۔"

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: 4/255)

محدود سماع پر ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال:

1- امام محمد بن وضاح القرطبی رحمہ اللہ (المتوفی 280-289 ھ)

امام ابن وضاح القرطبی (المتوفی  280-289 ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا:

" ولد سعيد بن المسيب لسنتين مضتا من خلافة عمر وسمع منه كلامه الذي قال حين نظر إلى الكعبة اللهم أنت السلام ومنك السلام فحينا ربنا بالسلام "

"سعید بن مسیب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد پیدا ہوئی، اور انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کاوہ کلام سنا جو انہوں نے اس وقت کہا جب انہوں نے کعبہ کو دیکھا (یعنی): اللهم أنت السلام ومنك السلام فحينا ربنا بالسلام "

 (التمہید: 23/93، واسنادہ صحیح الی ابن وضاح)

تبصره:

اس قول میں امام ابن وضاح رحمہ اللہ نے سعید بن المسیب کا عمر سے سماع کا اثبات کیا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ان کے اس سماع کی تحدید بھی کر دی کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا فلاں کلمہ سنا ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک سعید بن مسیب نے سب کچھ عمر رضی اللہ عنہ سے بالکل نہیں سنا، بلکہ ایک محدود اور قلیل سماع کیا ہے۔

2- امام ابن عبد البر  رحمہ اللہ (المتوفی463  ھ)

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وأما سماع سعيد بن المسيب من عمر بن الخطاب فمختلف فيه قالت طائفة من أهل العلم لم يسمع من عمر شيئا ولا أدركه إدراك من يحفظ عنه... وقال آخرون قد سمع سعيد بن المسيب من عمر أحاديث حفظها عنه منها هذا الحديث ومنها قوله حين رأى البيت وزعموا أن سعيد بن المسيب شهد هذه الحجة مع عمر وحفظ عنه فيها أشياء وأداها عنه وهي آخر حجة حجها عمر"

"سعید بن مسیب کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع مختلف فیہ ہے:
اہل علم کا ایک گروہ کہتا ہے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، اور نہ ہی ان کا ایسا ادراک کیا ہے جس میں ان سے کچھ حفظ کر سکیں۔۔۔

اور دوسرا گروہ کہتا ہے کہ سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ احادیث سنی ہیں جو انہوں نے ان سے حفظ کی ہیں، ان احادیث میں ایک یہ والی حدیث ہے (یعنی رجم کے قول والی)، اور انہی میں سے ایک حدیث ان کا وہ قول ہے جو انہوں نے کعبہ کو دیکھ کر کہا۔ بعض لوگوں نے دعوی کیا ہے کہ سعید بن مسیب نے یہ حج عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا، اور اس کے دوران انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے بعض چیزیں یاد کیں۔۔۔ اور یہ عمر رضی اللہ عنہ کا آخری حج تھا جو انہوں نے کیا۔"

(التمہید لابن عبد البر: 23/93)

تبصرہ:

اس قول میں صاف ظاہر ہے کہ امام ابن عبد البر سعید بن مسیب کے عمر سے صرف ان چند احادیث میں سماع کے قائل ہیں جن میں ان کے سماع کا ذکر صراحتا کیا گیا ہے، جیسا کہ ان روایات میں ہے جن کا ذکر ابن عبد البر نے کیا ہے۔

3- امام العلل حافظ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ (المتوفی 795 ھ)

امام ابن رجب رحمہ اللہ امام احمد کے قول کی تشریح میں فرماتے ہیں:

" ومراده أنه سمع منه شيئا يسيرا، لم يرد أنه سمع منه كل ما روى عنه، فإنه كثير الرواية عنه، ولم يسمع ذلك كله منه قطعا "

"ان کی مراد یہ ہے کہ سعید نے ان سے تھوڑا سا کچھ سنا ہے، یہ نہیں کہا کہ انہوں نے  اپنی ہر روایت  ان سے سنی ہے، کیونکہ سعید نے ان سے بکثرت روایت کی ہے، اور وہ سب انہوں نے ان سے قطعا نہیں سنی ہیں۔"

(شرح علل الترمذی: 1/552)

ایک دوسری جگہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے ایک حدیث کے تحت فرمایا:

"وهذا نوع إرسال من ابن المسيب؛ لأنه لم يشهد هذه القصة لعمر مع حسان عند أكثر العلماء الذين قالوا لم يسمع من عمر ومنهم من اثبت سماعه منه شيئا يسيرا"

"یہ سعید بن مسیب سے ارسال کی ایک قسم ہے کیونکہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کا حسان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس قصے کا مشاہدہ نہیں کیا ہے، اس کے قائل اکثر علماء ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اور ان میں بعض ایسے ہیں جو ان کے عمر رضی اللہ عنہ سے تھوڑے سے سماع کا اثبات کرتے ہیں"

(فتح الباری لابن رجب: 3/330)

نوٹ:  یہاں حافظ ابن رجب نے عدم سماع کے قائل علماء کو اکثریت میں گنا ہے۔

بحث سوم:
سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع پر وارد دلائل

سعید بن مسیب کے عمر سے سماع پر وارد ادلہ کا ذکر درج ذیل ہے:

1-            منبر پر نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کا اعلان شہادت

امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں محمد بن جعفر غندر سے، امام بخاری اور ابن سعد روایت کرتے ہیں ابو داود طیالسی سے، اور امام ابن عبد البر روایت کرتے ہیں عبد الصمد بن عبد الوارث  سے، یہ تینوں (غندر، طیالسی، اور عبد الصمد) بیان کرتے ہیں:

أخبرنا شعبة قال: أخبرني أياس ابن معاوية قال: قال لي سعيد بن المسيب: ممن أنت؟ قلت: رجل من مزينة. فقال سعيد بن المسيب: إني لأذكر يوم نعى عمر بن الخطاب النعمان بن مقرن على المنبر.

"ہمیں شعبہ نے خبر دی، کہا: مجھے ایاس بن معاویہ نے خبر دی، کہا:  سعید بن مسیب نے مجھ سےپوچھا: تم کس (قبیلے) سے ہو؟ میں نے کہا: مزینہ سے۔ انہوں نے فرمایا: مجھے وہ دن یاد آتا ہے جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن (جو اسی قبیلے سے تھے) رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر منبر پر کھڑے ہو کر دی۔"

(المنتخب من علل الخلال: 1/313، الطبقات الکبری لابن سعد: 6/96، التاریخ الکبیر للبخاری: 3/510، التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ – السفر الثالث: 2/115، التمہید لابن عبد البر: 23/94)

یہ روایت بالکل صحیح ہے۔ اور سعید کے الفاظ " إني لأذكر " میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حادثے کے دوران وہ چھوٹے تھے۔ اس روایت سے ان کی رؤیت کا اثبات امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے جیسا کہ اوپر ان کے قول کے تحت گزرا ہے۔ البتہ اس روایت کو ابو حاتم نے رؤیت پر محمول کیا ہے سماع پر نہیں۔ جبکہ بعض نے اس کو سماع کہا ہے۔

ان دونوں میں تطبیق یہ کی جا سکتی ہے کہ اس روایت میں اصولی طور پر کسی روایت کا سماع نہیں ہے کیونکہ اس میں صرف کچھ سننے کی خبر ہے، لیکن کیا سنا یا ان کے الفاظ کیا تھے اس کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے اس کا اطلاق صرف رؤیت پر ہو گا۔
دوسری طرف چونکہ اس میں حسا  کچھ سننے کی خبر ہے لہذا لفظی طور پر اسے سماع کہا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔

2-            عمر رضی اللہ عنہ کا رجم کے بارے میں بیان

سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کی دلیل پر ایک روایت پیش کی جاتی ہے، جسے ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں نقل کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وقد وقع لي حديثٌ بإسناد صحيح لا مطعن فيه، فيه تصريحُ سعيد بسماعه من عمر؛ قرأتُه على خديجة بنت سلطان؛ أنبأكم القاسم بن مظفَّر شفاهًا، عن عبد العزيز بن دُلَف، أن عليَّ بن المبارك بن نَغُوبَا أخبرهم؛ أخبرنا أبو نعيم محمد بن أبي البركات الجُمَّازي، أخبرنا أحمد بن المظفّر بن يزداد، أخبرنا الحافظ أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان السَّقَّاء، حدثنا ابن خليفة، حدثنا مسدّد في مسنده، عن ابن أبي عَدِي، ثنا داود -وهو: ابن أبي هند- عن سعيد بن المسيّب قال: سمعتُ عمر بن الخطاب على هذا المنبر يقول: "عسى أن يكون بعدي أقوام يكذبون بالرجَّم، يقولون: لا نجده في كتاب الله. لولا أن أزيد في كتاب الله ما ليس فيه لكتبت أنه حق؛ قد رجم رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، ورجم أبو بكر، ورجمتُ". هذا الإسناد على شرط مسلم"

"میرے پاس ایک صحیح غیر مطعن اسناد واقع ہوئی ہے جس میں سعید کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح موجود ہے۔ اس کو میں نے خدیجہ بنت سطان پر پڑھا۔۔۔۔ مسدد نے اپنی مسند میں اسے ابن ابی عدی سے، انہوں نے داود بن ابی ہند سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر کہتے سنا کہ میرے بعد شاید یہ وقت بھی آئے گا جب قومیں رجم کا انکار کریں گی۔۔۔۔ یہ اسناد مسلم کی شرط پر صحیح ہے"

(تہذیب التہذیب: 4/88)

اس روایت کی سند کو حافظ ابن حجر نے اس کے رواۃ کے ظاہری طور پر ثقہ ومسلم کے رواۃ ہونے کی وجہ سے اسے مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے۔ البتہ اس میں بڑی واضح علت موجود ہے جس کی وجہ سے اس میں موجود سعید کی تصریح سماع والے الفاظ شاذ ومعلول ہیں۔

یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے، اور کسی ایک میں بھی سماع کی تصریح نہیں ہے سوائے مسدد کی اس روایت میں۔اس کو بیان کرنے میں داود بن ابی ہند منفرد ہیں۔ اور داود بن ابی ہند سے بھی اس کو روایت کرنے میں ابن ابی عدی منفرد ہیں۔

اس روایت کی اصل صحیحین میں مطولا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

(دیکھیں: صحیح البخاری: 6830، وصحیح مسلم: 1691 وغیرہ)

سعید بن مسیب سے اس روایت کو بیان کرنے والوں میں درج ذیل لوگ شامل ہیں:

1-   یحیی بن سعید الانصاری

2-    داود بن ابی ہند

یحیی بن سعید الانصاری کی روایت:

امام مالک موطا میں روایت کرتے ہیں:

"حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، أنه سمعه يقول: لما صدر عمر بن الخطاب، من منى أناخ بالأبطح ثم كوم كومة بطحاء ثم طرح عليها رداءه. واستلقى. ثم مد يديه إلى السماء فقال: «اللهم كبرت سني، وضعفت قوتي، وانتشرت رعيتي، فاقبضني إليك غير مضيع، ولا مفرط» ثم قدم المدينة فخطب الناس. فقال: «أيها الناس قد سنت لكم السنن. وفرضت لكم الفرائض. وتركتم على الواضحة. إلا أن تضلوا بالناس يمينا وشمالا». وضرب بإحدى يديه على الأخرى ". ثم قال: «إياكم أن تهلكوا عن آية الرجم». أن يقول قائل لا نجد حدين في كتاب الله. فقد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا. والذي نفسي بيده، لولا أن يقول الناس: زاد عمر بن الخطاب في كتاب الله تعالى لكتبتها - الشيخ والشيخة فارجموهما ألبتة - فإنا قد قرأناها

قال مالك: قال يحيى بن سعيد:، قال سعيد بن المسيب: «فما انسلخ ذو الحجة حتى قتل عمر رحمه الله»"

" سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر لوٹے منی سے تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا ابطح میں اور ایک طرف کنکریوں کا ڈھیر لگا کر چادر کو اپنے اوپر ڈال دیا اور چت لیٹ گئے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے پروردگار بہت عمر ہوئی میری اور گھٹ گئی قوت میرے اور پھیل گئے رعیت میری (یعنی ملکوں ملکوں خلافت اور حکومت پھیل گئی دوردراز تک لوگ رعایا ہو گئے) اب اٹھا لے مجھ کو اپنی طرف اس حال میں کہ تیرے احکام کو ضائع نہ کروں اور عبادت میں کوتاہی نہ کروں۔ پھر وہ مدینہ میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ سنایا فرمایا اے لوگوں جتنے طریقے تھے سب کھل گئے اور جتنے فرائض تھے سب مقرر ہوگئے اور ڈالے گئے تم صاف سیدھی راہ پر مگر ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ دائیں بائیں، اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا پھر فرمایا نہ یہ ہو کہ تم بھول جاؤ رجم کی آیت کو کوئی یہ کہنے لگے ہم دو حدوں کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رجم کیا ہے قسم اس ذات پاک کی جس کے اختیار میں میری جان ہے اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے بڑھا دیا کتاب اللہ میں تو میں اس آیت کو قرآن میں لکھوا دیتا  -اور محصنہ عورت جب زنا کریں تو سنگسار کرو ان کو – بے شک  ہم نے اس آیت کو پڑھا ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا کہ پھر ذی الحجہ کا مہینہ نہ گزرا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل کئے گئے ۔"

(موطا مالک روایۃ یحیی: 3044)

اس روایت کو امام مالک سے درج ذیل لوگوں نے بھی روایت کیا ہے:

·       امام شافعی (اختلاف الحدیث للشافعی: 8/644، ومسند الشافعی ترتیب سنجر: 1572، ومن طریقہ البیہقی فی الکبری: 16920)

·       ابو مصعب الزہری (موطا مالک روایۃ ابی مصعب: 1766، ومسند حدیث مالک لاسماعیل القاضی: 73، وعوالی مالک روایۃ زاہر بن طاہر الشحامی: 27)

·       محمد بن الحسن الشیبانی (موطا مالک روایۃ الشیبانی: 693)

·       عبد اللہ بن مسلمہ القعنبی (مسند الموطا للجوہری: 789)

·       یحیی بن یحیی بن بکیر (السنن الکبری للبیہقی: 16921)

·       عبد اللہ بن وہب (فوائد الحنائی: 258)

·       عبد الرحمن بن القاسم (فوائد الحنائی: 258)

مزید یہ کہ یحیی بن سعید الانصاری سے روایت کرنے میں امام مالک کی متابعت درج ذیل لوگوں نے کر رکھی ہے:

·       یحیی بن سعید القطان،
اور ان سے روایت کرنے والوں میں درج ذیل شامل ہیں:

o      امام احمد بن حنبل  (مسند احمد: 249)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن يحيى، قال: سمعت سعيد بن المسيب، أن عمر قال..."

o      امام مسدد بن مسرہد (مسند مسدد بحوالہ اتحاف الخیرۃ للبوصیری: 3501، والمطالب العالیہ لابن حجر: 3897)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب قال: لما صدر عمر- رضي الله عنه..."

·       یزید بن ہارون
اور ان سے روایت کرنے والوں میں درج ذیل شامل ہیں:

o      امام احمد بن حنبل  (مسند احمد: 302)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب، أن عمر بن الخطاب قال..."

o      امام ابن سعد (الطبقات الکبری: 3/255)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب أن عمر لما أفاض من منى..."

o      امام ابو خیثمہ (کتاب مجابو الدعوۃ لابن ابی الدنیا: 24)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما نفر من منى..."

o      عمر بن شبہ البصری (تاریخ المدینہ لابن شبہ: 3/872)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب، أن عمر رضي الله عنه أتى البطحاء..."

·       فلیح بن سلیمان المدنی (حدیث ابی بکر الانباری: 49و اسنادہ حسن)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب، أن عمر بن الخطاب خطب الناس، فقال..."

·       اللیث بن سعد (نواسخ القرآن لابن الجوزی: ص 31، واسنادہ صحیح)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن سعيد بن المسيب، أن عمر بن الخطاب قال..."

·       عبد الوہاب بن عبد المجید الثقفی (الآحاد والمثانی لابن ابی عاصم: 90، و اخبار مکہ للفاکہی: 1831)
ان کے الفاظ ہیں: "
سمعت سعيد بن المسيب، يقول: " لما صدر عمر رضي الله عنه، عن منى..."

·       سفیان بن عیینہ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم: 4513، واخبار مکہ للفاکہی: 1831)
ان کے الفاظ ہیں: "
ثنا يحيى بن سعيد، أنه سمع سعيد بن المسيب يقول: لما صدر عمر بن الخطاب عن منى في آخر حجة..."

جیسا کہ اس تخریج سے واضح ہے ان میں سے کسی روایت میں سعید بن مسیب نے عمر سے سماع کی تصریح بیان نہیں کی ہے۔ نیز ان روایات کو نقل کرنے والے ائمہ حفاظ ہیں۔

داود بن ابی ہند کی روایت:

داود بن ابی ہند کی روایت پر بحث کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ان کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل کے بعض اقوال کا جائزہ لے لیا جائے۔

داود بن ابی ہند ثقہ ائمہ میں سے ہیں، البتہ ان پر بعض جرح بھی منقول ہے:

1-   امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: "كان كثير الإضطراب و الخلاف" (تہذیب التہذیب: 3/204)

2-    امام ابن حبان فرماتے ہیں: "وكان داود من خيار أهل البصرة، من المتقنين في الروايات إلا إنه كان يهم إذا حدث من حفظه" (الثقات لابن حبان:3/338)

3-    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: "ثقة متقن ، كان يهم بأخرة" (تقریب: 1817)

اس کے برعکس یحیی بن سعید الانصاری ان سے زیادہ بڑے حافظ اور سعید بن مسیب کی روایت کو زیادہ جاننے والے تھے۔ ان کے بارے میں امام احمد نے فرمایا:

"يحيى بن سعيد الأنصاري أثبت الناس" (تہذیب الکمال: 31/(6836))

نیز امام احمد نے یحیی الانصاری کو سعید بن مسیب کی روایت میں قتادہ پر فوقیت دی ہے۔ امام ابو داود فرماتے ہیں:
"
سمعت أحمد، سأله رجل عن حديث لسعيد؟ فقال: يحيى، عن سعيد، أصح من قتادة، عن سعيد، أي شيء يصنع بقتادة" (سؤالات ابو داود لاحمد: 212)۔

اسی طرح امام یحیی بن سعید القطان اور امام سفیان الثوری نے یحیی بن سعید الانصاری کو امام زہری پر بھی ترجیح دی ہے۔

(دیکھیں تہذیب الکمال: ترجمہ: 6836

مزید یہ کہ داود بن ابی ہند بصری ہیں، اور یحیی بن سعید الانصاری مدنی ہیں۔ اور یہ قاعدہ معروف ہے کہ راوی اپنے بلد کی روایت کو دیگر لوگوں سے زیادہ جانتا ہے، اور سعید بن مسیب بھی مدنی ہیں۔

لہٰذا یحیی بن سعید الانصاری اور داود بن ابی ہند کی روایات میں اختلاف کی صورت میں یحیی بن سعید الانصاری کی روایت کو ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔

البتہ داود بن ابی ہند کی روایت میں بھی اصلا سعید کا عمر سے سماع موجود نہیں ہے۔ داود بن ابی ہند سے اس روایت کو درج ذیل لوگوں نے روایت کیا ہے:

·       اسحاق بن یوسف الازرق (سنن ترمذی: 1431)
ان کے الفاظ ہیں: "
عن داود بن أبي هند، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب قال: رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورجم أبو بكر، ورجمت، ولولا أني أكره أن أزيد في كتاب الله..."

·       عبد الوہاب بن عطاء الخفاف (حلیۃ الاولیاء: 2/174، 3/95)
ان کے الفاظ ہیں: "
ثنا داود بن أبي هند، عن سعيد بن المسيب، قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه على هذا المنبر يعني منبر المدينة..."

·       یزید بن ہارون (مصنف ابن ابی شیبہ: 28779، والسنن الکبری للبیہقی: 16922)
ان کے الفاظ ہیں: "
أنبأ داود بن أبي هند، عن سعيد بن المسيب، قال: قال عمر رضي الله عنه..."

جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ داود بن ابی ہند سے اس روایت کو نقل کرنے والوں میں سے بھی کسی نے سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح ذکر نہیں کی ہے۔ اس کو ذکر کرنے میں محمد بن ابراہیم بن ابی عدی منفرد ہیں۔

علت کے بعض دیگر قرائن:

·       امام مالک رحمہ اللہ سعید بن مسیب کے احوال کے بارے میں دیگر لوگوں سے زیادہ جاننے والے تھے۔ انہوں نے سعید کی سیرت پر کئی اقوال نقل کئے ہیں۔ امام مالک خود اس روایت کے راوی بھی ہیں۔ اگر ان کے نزدیک اس روایت میں سعید کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوتا تو وہ کبھی یہ نہ کہتے کہ سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔

·       حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک دوسری جگہ خود سعید کی اس روایت کو مرسل کہا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
"
وفي مرسل سعيد بن المسيب في الموطإ أن عمر لما صدر من الحج دعا الله أن يقبضه إليه غير مضيع ولا مفرط وقال في آخر القصة فما انسلخ ذو الحجة حتى قتل عمر" (فتح الباری: 12/148)۔

·       امام مالک اور یزید بن ہارون وغیرہ کی یحیی بن سعید الانصاری سے روایت میں سعید بن مسیب نے اس روایت کو مطولا ذکر کیا ہے، اور اس  میں سعید بن مسیب نے رجم کے قول کے ساتھ ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کی وہ دعاء بھی ذکر کی ہے جو انہوں نے مدینہ آنے سے پہلے کی، چنانچہ اس روایت کے الفاظ ہیں:
"۔۔۔پھر انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے پروردگار بہت عمر ہوئی میری اور گھٹ گئی قوت میرے اور پھیل گئے رعیت میری (یعنی ملکوں ملکوں خلافت اور حکومت پھیل گئی دوردراز تک لوگ رعایا ہو گئے) اب اٹھا لے مجھ کو اپنی طرف اس حال میں کہ تیرے احکام کو ضائع نہ کروں اور عبادت میں کوتاہی نہ کروں۔ پھر وہ مدینہ میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ سنایا۔۔۔"

(دیکھیں موطا مالک کی مذکورہ بالا روایت)

ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو الگ واقعات ہیں۔ ایک مدینہ پہنچنے سے پہلے کا اور ایک مدینہ پہنچنے کے بعد کا۔ اگر کہا جائے کہ اس روایت کو سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان دونوں واقعات میں وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ ہی سفر بھی کیا!! یہ بات بہت بعید ہے۔ کیونکہ اس روایت کو صحیحین میں اصلا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی یہ سارا واقعہ خود نہیں سنا، بلکہ مدینہ پہنچنے سے پہلے کا واقعہ انہوں نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ گویا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی رسول ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ہیں، وہ خود اس ساری روایت کو ان سے نہ سن سکے کیوں کہ اس میں عمر رضی اللہ عنہ کے سفر کے دوران کا واقعہ بھی موجود ہے، لیکن دوسری طرف ایک آٹھ سال کے بچے کو ان دونوں واقعات کا شاہد بتایا جا رہا ہے!؟
بلکہ مصنف عبد الرزاق (20638) کی ایک روایت کے مطابق عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دعا سحر کے وقت کہی اور اس وقت وہاں سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ البتہ اس کی سند علی بن زید بن جدعان کی وجہ سے ضعیف ہے۔

·       ابن حجر نے تہذیب میں تصریحِ سماع پر مسند مسدد کی جو روایت اپنی سند سے نقل کی ہے، اس کے بارے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس روایت کو مسدد کی مسند سے کسی نے ذکر نہیں کیا ہے۔ حالانکہ اس روایت کو مسند مسدد سے علامہ بوصیری، علامہ سیوطی، اور خود ابن حجر نے بھی المطالب العالیہ میں ذکر کیا ہے لیکن ا ن سب نے یحیی الانصاری کا طریق نقل کیا ہے، اور کسی نے بھی مسدد کے حوالے سے داود بن ابی ہند والا طریق نقل نہیں کیا ہے۔ واللہ اعلم۔

 

3-            عمر رضی اللہ عنہ کا کعبہ کو دیکھ کر دعا پڑھنا

امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین، امام ابن سعد، اور احمد بن محمد بن الولید الازرقی روایت کرتے ہیں:

أخبرنا سفيان بن عيينة عن إبراهيم بن طريف عن حميد بن يعقوب سمع سعيد بن المسيب قال: سمعت من عمر كلمة ما بقي أحد حي سمعها غيري. كان عمر حين رأى الكعبة قال: اللهم أنت السلام ومنك السلام.

سفیان بن عیینہ نے ہمیں خبر دی، انہوں نے ابراہیم بن طریف سے بیان کیا، انہوں نے حمید بن یعقوب سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایسا کلمہ سنا جس کو سننے والا میرے سوا کو ئی اور زندہ نہیں بچا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے جب کعبہ کی طرف دیکھا تو کہا: اللهم أنت السلام ومنك السلام ۔

(العلل ومعرفۃ الرجال لاحمد روایۃ عبد اللہ: 197، وتاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 978، والطبقات الکبری لابن سعد: 5/90، والسنن الکبری للبیہقی من طریق ابن معین: 9216، والتاریخ الکبیر للبخاری: 944، اخبار مکہ للازرقی: 1/278)

اس روایت کےتحت عباس الدوری کہتے ہیں:

"قلت ليحيى: من إبراهيم بن طريف هذا؟ قال يمامي , قلت: فمن حميد بن يعقوب هذا؟ قال: روى عنه يحيى بن سعيد الأنصاري"

"میں نے یحیی بن معین سے کہا: ابراہیم بن طریف کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ یمامی ہے۔ میں نے پوچھا:اور یہ  حمید بن یعقوب کون ہے؟ انہوں نے کہا: اس سے یحیی بن سعید الانصاری نے روایت کی ہے۔"

تبصرہ:

اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اور اس میں اضطراب بھی موجود ہے۔

ابراہیم بن طریف الیمامی مجہول ہے:

ابراہیم بن طریف نام کےاس طبقہ میں دو راوی ہیں۔

·       ابراہیم بن طریف الیمامی – جو اس روایت کا راوی ہے۔ ابو حاتم وابو زرعہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اسے مدینی لکھا ہے۔

·       ابراہیم بن طریف الشامی

یہ دونوں یحیی بن سعید الانصاری سے روایت کرتے ہیں۔ جبکہ پہلے والے سے شعبہ اور ابن عیینہ روایت کرتے ہیں۔ اور دوسرے والے سے روایت کرنے میں اوزاعی منفرد ہیں۔

ان دونوں کے درمیان ابن ابی حاتم نے فرق کیا ہے، جبکہ ابن حبان کا ظاہر عمل  اس کے موافق ہے کہ وہ انہیں ایک سمجھتے تھے ۔ ابن شاہین اور امام بخاری نے بھی ان دونوں میں سے صرف ایک ہی کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ امام ابن حبان کتاب الثقات میں فرماتے ہیں:

"إبراهيم بن طريف شيخ يروي عن يحيى بن سعيد الأنصاري روى عنه عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي"

(الثقات: 6551)

ابن حبان نے الثقات میں جس کا ذکر کیا ہے وہ ابراہیم بن طریف الشامی ہے۔ کیونکہ ابن ابی حاتم نے ان دونوں میں سے اوزاعی کے استاد کو الشامی کہا ہے، چنانچہ امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:

"308 - إبراهيم بن طريف مديني روى عن حميد بن يعقوب عن سعيد بن المسيب روى عنه شعبة وابن عيينة، سمعت أبي وأبا زرعة يقولان ذلك.

309 - إبراهيم بن طريف الشامي روى عن ابن محيريز روى عنه الأوزاعي."

(الجرح والتعدیل: 2/108)

اور اس ابراہیم الشامی کے تحت حافظ ابن حجر نے امام احمد بن صالح کی توثیق نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

" إبراهيم بن طريف الشامي عن عبد الله بن محيريز ويحيى بن سعيد الأنصاري ومحمد بن كعب القرظي, وعنه الأوزاعي. قلت: ذكره بن حبان في الثقات, وقال: "شيخ", ونقل ابن شاهين في الثقات عن أحمد بن صالح قال: "كان ثقة""

(تہذیب التہذیب: 1/128، نیز دیکھیں تاریخ اسماء الثقات لابن شاہین: 39)

اس کے باوجود حافظ ابن حجر نے تقریب میں ابراہیم الشامی کو "مجہول" لکھا ہے اور امام احمد بن صالح کی توثیق کو بصیغہ جزم ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

"إبراهيم بن طَرِيف الشَّاميُّ: مجهولٌ تَفَرَّد عنه الأوذاعيُّ، وقد وُثِّق، من السابعة"

(تقریب: 188)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد بن صالح کی توثیق ان کے نزدیک اس راوی کے بارے میں معتبر نہیں ہے۔

بہرحال، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ احمد بن صالح اور ابن حبان کی توثیق ابراہیم بن طریف الشامی کے بارے میں ہے، نہ کہ ابراہیم بن طریف الیمامی کے بارے میں۔

جہاں تک ابراہیم بن طریف الیمامی کی بات ہے تو اس کے بارے میں کوئی کلمہ توثیق مروی نہیں ہے۔  امام بخاری وابن ابی حاتم وغیرہ نے صرف یہ کہا ہے کہ شعبہ نے ان سے روایت کی ہے۔ اور امام شعبہ معروف قاعدے کے مطابق صرف ثقات سے روایت کرتے ہیں۔

البتہ شعبہ کی روایت سے یہ توثیق ثابت نہیں ہوتی کیونکہ:

·        شعبہ کی یہ روایت کس قبیل سے ہے، یا اس کا کیا پس منظر ہے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے، کیونکہ ان کی روایت کسی کتاب میں نہیں ملی۔

·       شعبہ کے بارے میں یہ قاعدہ کہ وہ صرف ثقات سے روایت کرتے ہیں، یہ اغلبی قاعدہ ہے، کلی قاعدہ نہیں۔ جبکہ شعبہ کے شیوخ میں بعض ضعفاء ومجاہیل بھی موجود ہیں۔

·       مزید یہ کہ ابراہیم بن طریف نے صرف یہی ایک روایت بیان کی ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی روایت کتب حدیث میں موجود نہیں ہے۔  یہ بھی ایک قرینہ ہے کہ اس راوی کی توثیق پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

ابراہیم بن طریف الیمامی کے مجہول ہونے پر دو مزید قرائن یہ بھی ہیں کہ:

·       امام سفیان بن عیینہ نے اس سے روایت کرتے وقت ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ بھی اس راوی کو نہیں جانتے تھے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

" حدثنا سفيان قال حدثنا يحيى يعني بن سعيد في سنة أربع وعشرين في ذاك الموضع لموضع من المسجد الحرام معنا رجل من أهل اليمامة يقال له إبراهيم بن طريف"

(العلل لاحمد: 197، وسؤالات ابی داود لاحمد: ص 162)

اسی لئے ابراہیم بن طریف نے جب یہ روایت بیان کی،تو وہ اس کی تصدیق خود حمید بن یعقوب سے کرنا چاہتے تھے، اور اسی لئے وہ مدینہ ان کے پاس گئے لیکن وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہیں اس لئے وہ باہر نہیں آئے، چنانچہ یہ بھی ابن عیینہ کی طرف سے ان کی ابراہیم بن طریف کی روایت پر غیر اعتمادی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

"قال إبراهيم أخبرني حميد بن يعقوب وهو حي بالمدينة قال سمعت سعيدا يقول سمعت من عمر كلمة ما بقي قال سفيان وقال مرة حي غيري سمعته يقول حين رأى الكعبة اللهم أنت السلام ومنك السلام حينا ربنا بالسلام قال سفيان فقدمت المدينة فقالوا هو مريض لا يخرج يعني حميد بن يعقوب"

(العلل لاحمد: 197، وسؤالات ابی داود لاحمد:ص 162، والتاریخ الکبیر للبخاری: 944)

اگر ابن عیینہ کی روایت کا یہ حال ہے، تو کیا بعید ہے کہ شعبہ کی اس سے روایت بھی کچھ اسی طرح کی ہو۔

·       دوسرا قرینہ یہ ہے کہ عباس الدوری کی یحیی بن معین سے روایت میں بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس راوی کو نہیں جانتے تھے، چنانچہ عباس الدوری فرماتے ہیں:

"قلت ليحيى من إبراهيم بن طريف هذا فقال يمامي"

(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 978)

حمید بن یعقوب  "لا یعرف" ہے:

حمید بن یعقوب بن یسار المدنی کا حال ابراہیم بن طریف سے کچھ بہتر ہے۔ لیکن پھر بھی ان میں کچھ اشکال موجود ہے۔

حمید بن یعقوب نے صرف سعید بن مسیب سے روایت بیان کی ہے، اور ان سے صرف ابراہیم بن طریف اور محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے۔

ان سے روایت کرتے وقت امام محمد بن اسحاق نے ان کی توثیق کی ہے، چنانچہ امام ابن ابی حاتم ، امام ابن ابی خیثمہ، اور امام بخاری روایت کرتے ہیں:

"نا يعقوب ابن إبراهيم بن سعد نا أبي عن ابن إسحاق قال: أخبرني حميد بن يعقوب ابن يسار وكان ثقة"

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 1013،و التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ، السفر الثالث: 2613، والتاریخ الکبیر للبخاری: 2717)

امام ابن حبان نے انہیں کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے (7306)۔

جبکہ اس کے برعکس امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ وہ اس راوی کو نہیں جانتے تھے۔ اور امام ابو حاتم نے اپنی اس روایت کو سکوت کے ذریعے برقرار رکھا ہے، چنانچہ امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:

"حدثنا عبد الرحمن قال ذكر أبي عن إسحاق بن منصور قال قلت ليحيى بن معين: حميد بن يعقوب؟ فلم يعرفه"

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 1013)

چنانچہ، ایک طرف محمد بن اسحاق کی توثیق ہے جو کہ ایک مؤرخ ہیں اور فن جرح وتعدیل میں وہ مقام نہیں رکھتے جو امام یحیی بن معین وامام ابو حاتم کو حاصل ہے۔ اور دوسری طرف امام یحیی بن معین ہیں جو کہ جرح وتعدیل کے امام ہیں۔ ان کا کسی راوی کو نہ جاننا بھی ایک حجت ہے۔

چنانچہ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وثمامة بْن كلثوم كما ذكره يَحْيى لَيْسَ بمعروف، وَإذا لم يعرفه مثل يَحْيى بْن مَعِين فلا خير فيه ومقدار ما لَهُ من الْحَدِيث فيما يرويه محتمل"

(الکامل لابن عدی: 2/322)

اسی طرح ایک دوسری جگہ فرمایا:

"وَإذا لم يعرفه يَحْيى يكون مجهولا"

(الکامل لابن عدی: 8/160)

اس پر ایک اور قرینہ یہ بھی ہے کہ حمید بن یعقوب نے دو سے زیادہ روایات بیان نہیں کی ہیں، لہٰذا ان کی توثیق کے لئے ان کی روایات سے اعتبار نا کافی ہے۔ اس لئے امام یحیی بن معین کے قول کا پلڑا بھاڑی ہے۔

محمد بن اسحاق کی توثیق کی ایک تطبیق یہ ممکن ہے کہ اس سے ان کی مراد راوی کی عدالت ہو سکتی ہے۔ اور ابن حبان کی توثیق کا منہج تو معروف ہے۔

سند میں اضطراب اور دیگر رواۃ کا سعید کے سماع کا عدم ذکر:

زیرِ بحث روایت دیگر کئی وجوہ وطرق سے مروی ہے لیکن ان میں سے کسی میں سعید کے سماع کی تصریح نہیں ہے، اور بعض میں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہی نہیں ہے۔

·       امام شافعی نے اس روایت کو ابن عیینہ نے اس سند ومتن سے روایت کیا ہے:

"أخبرنا ابن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن سعيد، عن أبيه سعيد بن المسيب: أنه كان حين ينظر إلى البيت يقول: اللهم أنت السلام، ومنك السلام فحينا ربنا بالسلام."

(مسند الشافعی، ترتیب سنجر: 949)

اس سند میں سعید بن مسیب سے روایت کرنے والے ان کے بیٹے: محمد بن سعید بن مسیب ہیں، اور ان سے روایت کرنے والے یحیی بن سعید الانصاری ہیں۔

·       ایک دوسرے طریق میں جعفر بن عون رحمہ اللہ نے سفیان بن عیینہ کی متابعت کر رکھی ہے، چنانچہ امام بیہقی فرماتے ہیں:

"أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو , أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني , ثنا محمد بن عبد الوهاب , أنبأ جعفر بن عون , أنبأ يحيى بن سعيد , عن محمد بن سعيد بن المسيب , قال: كان سعيد إذا حج فرأى الكعبة قال: " اللهم أنت السلام , ومنك السلام حينا ربنا بالسلام ""

(السنن الکبری للبیہقی: 9215، اسنادہ صحیح الی یحیی بن سعید)

·       ابن عیینہ اور جعفر بن عون کی متابعت عبدۃ بن سلیمان نے بھی کر رکھی ہے، چنانچہ ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں:

"نا عبدة بن سليمان، عن يحيى بن سعيد , عن محمد بن سعيد بن المسيب، عن سعيد بن المسيب أنه كان إذا دخل مسجد الكعبة، ونظر إلى البيت قال: «اللهم أنت السلام، ومنك السلام، فحينا ربنا بالسلام»"

(مصنف ابن ابی شیبہ: 15755)

·       ابن عیینہ کی متابعت ابو الاحوص نے بھی کی ہے، ان کی روایت سنن سعید بن منصور میں مروی ہے، جس کا ذکر علامہ زیلعی وابن الملقن وغیرہ نے کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

"ورواه سعيد بن منصور حدثنا أبو الأحوص أن يحيى بن سعيد عن ابن سعيد بن المسيب عن أبيه أنه كان إذا دخل المسجد استقبل القبلة، وقال: اللهم أنت السلام، إلى آخره، فجعله من قول سعيد"

(نصب الرایہ:  3/36-37، والبدر المنیر: 6/305، والدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایہ لابن حجر: 2/13)

چنانچہ (ابن عیینہ)، (جعفر بن عون)، (عبیدۃ بن سلیمان)،  اور(ابو الاحوص)، ان چاروں نے اس روایت کو یحیی بن سعید الانصاری عن محمد بن سعید بن مسیب عن ابیہ سعید بن مسیب کے طریق سے سعید بن مسیب کے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اس میں عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

·       اسی طریق سے اس روایت کو المحاملی نے اپنی امالی میں اس طرح نقل کیا ہے:

"حدثنا الحسين ثنا محمود بن خداش، ثنا هشيم، أنبأ يحيى بن سعيد، عن محمد بن سعيد بن المسيب، عن أبيه، عن عمر: أنه كان إذا نظر إلى البيت قال: «اللهم , أنت السلام , ومنك السلام، حينا ربنا بالسلام»"

(أمالی المحاملی روایۃ ابن یحیی البیع: 308)

اس طریق میں ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ نے سفیان بن عیینہ وغیرہ کی متابعت کر رکھی ہے، لیکن یہاں پر محمد بن سعید بن مسیب نے اسے اپنے والد کے ذریعے سے  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔

اور اس روایت میں سعید نے عمر سے سماع کی تصریح بھی ذکر نہیں کی ہے۔

·       ایک دوسرے طریق میں یحیی بن سعید الانصاری نے اس روایت کو براہ راست سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے، اور محمد بن سعید بن مسیب کا واسطہ بیچ میں سے گرا دیا ہے۔

چنانچہ، ازرقی روایت کرتے ہیں:

"حدثني جدي، قال: حدثنا مسلم بن خالد الزنجي، عن ابن جريج، قال: أخبرني يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، أنه قال: كان عمر بن الخطاب إذا رأى البيت قال: «اللهم أنت السلام ومنك السلام فحينا ربنا بالسلام»"

(اخبار مکہ للازرقی" 1/278)

اور دوسری جگہ، ابن ابی شیبہ نقل کرتے ہیں:

"حدثنا عبدة بن سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، أنه كان إذا دخل المسجد: الكعبة، ونظر إلى البيت، قال: «اللهم أنت السلام، ومنك السلام فحينا ربنا بالسلام»"

(مصنف ابن ابی شیبہ: 29625)

نیز یحیی الانصاری نے اس روایت کو سعید کے قول اور عمر رضی اللہ عنہ کے قول دونوں طریقوں سے روایت کیا ہے، جس طرح انہوں نے اسے محمد بن سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں محمد بن سعید بن مسیب کا واسطہ یا تو تدلیس کی وجہ سے گر گیا ہے یا کسی راوی کی غلطی کی وجہ سے، کیونکہ یہ دونوں روایتوں بالکل ویسے ہی مروی ہیں جیسے محمد بن سعید نے روایت کی ہیں (یعنی اضطراب کے ساتھ – ایک بار سعید کے قول کے طور پر، اور ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر)۔

محمد بن سعید بن مسیب  کے بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا:

"مقبول من السادسة"

(تقریب: 5913)

·       یحیی الانصاری اور محمد بن سعید کی متابعت غالب بن عبید اللہ الجزری نے بھی کر رکھی ہے، چنانچہ الازرقی فرماتے ہیں:

"حدثني جدي، عن سعيد بن سالم، عن عثمان بن ساج، قال: أخبرني غالب بن عبد الله، عن سعيد بن المسيب، أنه كان إذا نظر إلى البيت قال: «اللهم أنت السلام ومنك السلام فحينا ربنا بالسلام»"

(اخبار مکہ للازرقی: 1/279)

البتہ غالب بن عبید اللہ ضعیف ومتروک ہے۔

بہرحال ان میں سے کسی روایت میں سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح میں وہ الفاظ نہیں کہے ہیں جو ابراہیم بن طریف نے حمید بن یعقوب کے طریق سے کہے ہیں۔ اور ان میں سے بعض میں عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی موجود نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

ائمہ علل ومحدثین کا اس روایت پر عدم اعتماد:

اس روایت کے ضعف کی سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ ائمہ علل میں سے امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے، یعنی وہ اس روایت سے بخوبی واقف تھے۔ اور اس کے باوجود انہوں نے سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کا انکار کیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک اس روایت میں سعید کے سماع پر مشتمل الفاظ ضعیف وغیر معتبر ہیں۔

اسی طرح امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ بھی اس روایت سے واقف تھے کیونکہ انہوں نے ابراہیم بن طریف کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ابن عیینہ روایت کرتے ہیں:

إبراهيم بن طريف مديني روى عن حميد بن يعقوب عن سعيد بن المسيب روى عنه شعبة وابن عيينة، سمعت أبي وأبا زرعة يقولان ذلك

(الجرح والتعدیل: 308)

نیز اس طریق سے صرف یہی ایک روایت مروی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حاتم کو اس روایت کا علم تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے سعید کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کا انکار کیا ہے۔

اور آخر میں اس روایت کے ضعف پر ایک صریح قول بھی موجود ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں:

"قلت: في النفس من صحة هذا "

"میں کہتا ہوں: دل میں اس روایت کی صحت پر (کچھ شک) ہے"

(المہذب فی اختصار السنن الکبیر للذہبی: 4/1818)

اسی طرح حافظ ابن الملقن نے بھی اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

"وفيها أيضا عن سعيد بن المسيب، قال: سمعت هذا من عمر، وما بقي على الأرض سمع هذا منه غيري «أنه نظر إلى البيت فقال: اللهم أنت السلام ومنك السلام (فحينا) ربنا بالسلام» وفي هذا إثبات سماع سعيد (من عمر) والمشهور خلافه"

(البدر المنیر: 6/174)

ان کے الفاظ "والمشہور خلافہ"  میں اشارہ ہے کہ وہ اس روایت میں سعید کے عمر سے سماع کو معتبر نہیں سمجھتے تھے۔ نیز اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ دیگر جگہوں پر انہوں نے سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کو منقطع قرار دیا ہے۔

(اوپر دیکھیں سماع کے انکار میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال: تحت قول حافظ ابن الملقن)

لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے اور اس سے سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

4-            عمر رضی اللہ عنہ کا جماع کے بعد غسل نہ کرنے والے کو سزا دینا

امام ابن سعد الطبقات الکبری میں، امام ابن المنذر الاوسط میں الحسن بن علی بن عفان سے، اور امام ابن عبد البر التمہید میں الحسن بن علی الحلوانی سے، یہ تینوں (ابن سعد، الحسن بن علی بن عفان، اور الحسن بن علی الحلوانی) روایت کرتے ہیں:

"ثنا أسباط، عن الشيباني، عن بكير بن الأخنس، عن ابن المسيب، قال: سمعت عمر، يقول على المنبر لا أجد أحدا جامع امرأته ولم يغتسل أنزل أو لم ينزل إلا عاقبته"

"اسباط (بن محمد القرشی) نے ہمیں روایت بیان کی، انہوں نے بکیر بن الاخنس سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر کہتے سنا: ایسے کسی شخص کو میں پاؤں جو اپنی بیوی سے جماع کرےاور پھر غسل نہ کرے – چاہے وہ انزال کرے یا نہ کرے – تو میں اسے سزا دوں گا۔"

(الطبقات الکبری لابن سعد: 5/90، والاوسط لابن المنذر: 577، والتمہید لابن عبد البر: 23/94)

اس روایت کے تمام رجال صدوق وثقہ ہیں۔ اور اس روایت میں سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے تصریحِ سماع موجود ہے۔ لیکن اس پر ائمہ علل کا اختلاف ہے۔

اس روایت کو ابو اسحاق الشیبانی سے روایت کرنے والے اسباط بن محمد القرشی پر علماء جرح وتعدیل کا اختلاف ہے۔

اسباط بن محمد القرشی جرح وتعدیل کی روشنی میں:

1-   امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"أسباط بن محمد ثقة"

(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 1284، والجرح والتعدیل: 2/333و سؤالات ابن الجنید: 778)

ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا:

"أسباط ليس به بأس وكان يخطئ عن سفيان"

(تاریخ بغداد: 7/49)

اور ایک دوسری جگہ فرمایا:

"أسباط بن محمد ثقة والكوفيون يضعفونه"

(تاریخ بغداد: 7/49)

ایک دوسری روایت میں امام دارمی نے یحیی بن معین سے پوچھا: اسباط بن محمد کی حدیث کیسی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:

"ليس به بأس"

(تاریخ بغداد: 7/49)

2-    امام یعقوب بن شیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

"أسباط بن محمد، كوفي ثقة صدوق"

(تاریخ بغداد: 7/49)

3-    امام ابن سعد رحمہ اللہ نے فرمایا:

"وكان ثقة صدوقا إلا أن فيه بعض الضعف"

(الطبقات الکبری: 6/364)

4-    امام ابو جعفر العقیلی رحمہ اللہ نے اسباط کو کتاب الضعفاء میں ذکر کیا اور فرمایا:

"أسباط بن محمد القرشي ربما يهم في شيء"

(الضعفاء الکبیر للعقیلی: 144)

5-    امام عجلی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"لا بأس به"

(الثقات: 61)

6-    امام ابو داود رحمہ اللہ سے الآجری نے اسباط کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:

"ثقة"

(سؤالات الآجری: 141)

7-    امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"أسباط ابن محمد صالح"

(الجرح والتعدیل: 2/333)

8-    امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے (6833)۔

9-    امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"ليس به بأس"

(تہذیب الکمال: 2/356)

10-           امام ذہبی رحمہ اللہ نے میزان الاعتدال میں [صح]کی علامت کے ساتھ اسباط کی توثیق کو راجح قرار دیا اور فرمایا:

"صدوق"

(میزان الاعتدال: 711)

ان اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباط بن محمد القرشی ثقہ ہیں  اور بعض ائمہ نے ان پر غلطیاں کرنے کا الزام بھی لگایا ہے جس کی وجہ سے ان کی حدیث کا درجہ صحیح سے گِر کر حسن بنتا ہے۔

ائمہ علل کا اس روایت پر اعتماد نہ کرنا:

اس سب کا مقصد یہ ہے کہ اسباط بن محمد کی زیرِ بحث روایت بھی ان روایات میں سے ہے جن میں انہوں نے غلطی کی ہے۔

اور اس بات کا اقرار امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے، اگرچہ انہوں نے خود اسباط کی توثیق بھی کر رکھی ہے۔

·       چنانچہ امام یحیی بن معین سے عباس الدوری روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"سمعت يحيى يقول وقلت له الأسباط يروي عن الشيباني عن حماد عن إبراهيم قال سمعت بن عباس فقال هكذا كان يقول أسباط وهو خطأ وقد كان أسباط يروي حديثا يخطي فيه كان يروي عن الشيباني عن بكير بن الأخنس عن سعيد بن المسيب قال سمعت عمر بن الخطاب وهو أيضا خطأ لم يسمع من عمر شيئا"

(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 3090)

چنانچہ امام ابن معین نے صراحتا اسباط بن محمد کی سعید بن مسیب سے اس روایت کو ان کی خطاء قرار دیا ہے۔

·       اسی طرح امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسباط کی اس روایت کو سیر اعلام النبلاء میں نقل کیا ہے، لیکن اس کے باوجود، انہوں نے اسی جگہ پر سعید کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کا انکار کیا ہے۔

(دیکھیں: سیر اعلام النبلاء:5/124، 126)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس روایت کو قابل اعتبار نہیں سمجھتے تھے۔

اسباط بن محمد کی مخالفت:

امام یحیی بن معین وغیرہ کی تعلیل کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس روایت میں اسباط بن محمد نے اپنے سے اثبت کی مخالفت کی ہے۔

چنانچہ اس روایت کو ابو اسحاق الشیبانی سے روایت کرنے والوں میں عبد اللہ بن ادریس الاودی بھی شامل ہیں۔ اور انہوں نے اس روایت میں سعید سے عمر رضی اللہ عنہ کا سماع نقل نہیں کیا ہے۔

چنانچہ امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں:

"حدثنا ابن إدريس، عن الشيباني، عن بكير بن الأخنس، عن سعيد بن المسيب، قال: قال عمر: «لا أوتى برجل فعله يعني جامع، ثم لم ينزل ولم يغتسل، إلا نهكته عقوبة»"

(مصنف ابن ابی شیبہ: 940)

اور عبد اللہ بن ادریس کا شمار ثقہ ائمہ اثبات میں سے ہوتا ہے اور ان پر کسی نے بھی جرح نہیں کی ہے۔

امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ جیسے متشدد امام نے ان کے بارے میں فرمایا ہے:

"حديث ابن إدريس حجة يحتج بها وهو إمام من أئمة المسلمين ثقة"

(الجرح والتعدیل: 5/9)

چنانچہ ان کی روایت میں سعید کے سماع کی تصریح نہیں ہے اور وہ اسباط بن محمد سے کئی زیادہ بڑے حافظ ہیں۔ لہٰذا ظاہر یہ ہوتا ہے کہ امام ابن معین کی تصریح کے ساتھ ابن ادریس کی روایت مقدم ہے، واللہ اعلم۔

 

یہ وہ تمام دلائل ہیں جن سے سعید بن مسیب کے سماع کو عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر واضح  ہوا سعید بن مسیب کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے ان میں سے کسی روایت میں ثابت نہیں ہے، سوائے ایک روایت کے، جس میں سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دیتے ہوئے سنا۔

نیز یہ قول امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے قول کے موافق ہے۔

بحث چہارم:
سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایات  کا جائزہ، اور ائمہ کے اقوال کی تطبیق

 

ہم نے اوپر تفصیلا دیکھا کہ سعید بن مسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع پر اختلاف ہے۔ البتہ جمہور محدثین ان کے مختصر سماع کے اثبات کے باوجود ان کی روایت میں اصلا انقطاع کے قائل ہیں۔ مزید یہ کہ اس پر وارد سارے دلائل بھی جمہور کے قول کی تائید کرتے ہیں۔

اس کا بہترین خلاصہ شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں کیا ہے:

"سعيد بن المسيب لم يدرك عمر إلا صغيرًا، فروايته عنه مرسلة إلا رواية صرح فيها أنه يذكر فيها يوم نعي عمر النعمان بن مقرن على المنبر "

"سعید بن مسیب نے عمر کو نہیں پایا سوائےبچپنے کی حالت میں، لہٰذا ان کی ان سے روایت مرسل ہے سوائے اس روایت کے جس میں انہوں نےاس بات کی صراحت کی ہے کہ انہیں اس معاملے میں وہ دن یاد ہے جب عمر رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اعلان منبر پر کیا تھا۔"

(تحقیق المسند: 1/202)

سعید کا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر اعلان کرتے ہوئے سننے کو اگر ان کے سماع پر محمول کیا جائے، یا پھر سماع کے قائل محدثین کےقول کو قبول کر لیا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے عمومی طور پر سماع کیا ہے (یہ سماع ایک روایت پر بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ پر بھی)۔ لیکن  کیا انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان ساری روایات میں سماع کیا ہے جو کتب حدیث میں مروی ہیں؟ چنانچہ متقدمین کے اقوال میں ترجیح وتطبیق کے لئے اس امر کو واضح کرنا بہت اہم ہے۔

وہ اس لئے کہ سعید بن مسیب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کثیر الروایت ہیں، اور اوپر بحث اول کے تحت گزر چکا ہے کہ  عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں سعید بن مسیب ابھی بچے تھے۔  ہم نے واضح کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت سعید کی عمر تقریبا آٹھ سال تھی۔ اور ہم نے یہ بھی مانا کہ عمومی طور پر سعید کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنا ثابت ہے۔ اور اگر ہم یہ فرض کریں کہ سعید کا سنّ تمییز پانچ یا چھ سال تھا، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے دو یا تین سال کے دوران سنا ہو گا۔ تو یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سعید بن مسیب نے ان تمام روایات کو عمر رضی اللہ عنہ سے براہ راست سنا ہے جو انہوں نے روایت کیں؟ اگر کوئی کہے کہ ہاں، تو اس میں درج ذیل  اشکال ہیں:

پہلا:

سعید بن مسیب کی چھوٹی عمر اس بات کو برداشت نہیں کرتی کہ ان سب روایات کا سماع انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے براہ راست کیا ہو۔ خاص طور سے اگر سعید کی صغر سنی کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت وخلافت کی مصروفیات کو مد نظر رکھا جائے۔

چنانچہ شیخ عبد اللہ الجدیع اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"...لصغر سعيد يوم استشهد عمر، مع كثرة ما حدث عنه مما لا يحتمل سنه أن يكون سمعه من عمر..."

"۔۔۔سعید کا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کے وقت ان کی چھوٹی عمر ہونے کی وجہ سے، اس کے اوپر ان کا ان سے کثرت سے ایسی روایات نقل کرنا جس کو ان کی عمر برداشت نہیں کرتی کہ وہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہوں۔۔۔"

(تحریر علوم الحدیث: ص 99)

دوسرا:

سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے بیشتر قضایا وفیصلوں کی روایات نقل کی ہیں۔اگر کہا جائے کہ سعید نے وہ سب عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہیں، تواس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ سارے فیصلے اور واقعات ایک ساتھ اتنے مختصر سے وقت میں پیش آ گئے، اور ہر اس واقعے میں ایک چھ سے آٹھ سال کا بچہ ہمیشہ موجود رہا۔ نہ صرف وہاں موجود رہا بلکہ انہیں سمجھ بھی گیا اور حفظ بھی کر لیا۔

تیسرا:

سعید نے عمر رضی اللہ عنہ کے  بہت سے ایسے قصے وواقعات بھی نقل کیے ہیں جن کا وقوع بہت پہلے ہو چکا تھا اور سعید بن مسیب کا ان کا ادراک کرنا نا ممکن ہے۔ نیز ان روایات میں انقطاع قطعی طور پر ثابت ہے، جس کی کچھ مثالیں ہم اوپر بھی دیکھ چکے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ سعید نے عمر سے اپنی روایت کردہ ہر روایت ان سے براہ راست سنی ہے یہیں پر باطل ٹھہرا۔

کیا سعید بن مسیب مدلس تھے؟

جب یہ بات واضح ہو چکی کہ ان سب روایات کو سعید نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ، تو سعید بن مسیب کی عمر رضی اللہ عنہ سے ان کثیر روایات کا عنعنہ کے ساتھ موجود ہونا   تدلیس پر دلالت کرتا ہے، جبکہ ائمہ میں سے کسی نے بھی انہیں مدلس نہیں کہا ہے۔

لہٰذا سعید کی عمر سے ان سب روایات کا وجودتین میں سے ایک امر کو لازم کرے گا:

پہلا: یا تو ان سب روایات کو اتصال پر محمول کیا جائے گا

یعنی یہ کہا جائے کہ ان ساری کی ساری روایات کو سعید نے براہ راست عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، اور جیسا کہ ہم نے دیکھا، یہ بات بہت بعید ہے۔

دوسرا: یا پھر یہ کہا جائے کہ سعید بن مسیب مدلس ہیں

اور یہ بات بھی بعید ہے کیونکہ کسی نے بھی انہیں تدلیس سے متصف نہیں کیا ہے۔

تیسرا: اور آخر میں یہی احتمال باقی بچتا ہے کہ سعید کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کو صرف بعض روایات پر محمول کیا جائے جن میں انہوں نے صراحت کی ہے، اور بقیہ روایات کو ان کے اصل یعنی عدم سماع پر باقی رکھا جائے

اس سے تمام ائمہ کے اقوال میں جمع وتطبیق ہو جاتی ہے، اور سعید کی تدلیس کا شبہہ بھی دور ہو جاتا ہے، کیونکہ جب اصل عدم سماع ہو گی تو اگر سعید ان سے عنعنہ کے ساتھ کچھ روایت بھی کریں تو اس میں کوئی چھپی ہوئی علت نہیں ہو گی جس کو تدلیس کے ذریعے چھپایا جاتا ہے۔ اور باقی روایات یا روایت جن میں سعید کی عمر سےسماع پر تصریح موجود ہو انہیں ان کی اصل کے خلاف اتصال پر محمول رکھا جائے گا۔

بحث پنجم:
سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایات میں انقطاع کے باوجود ان کا حجت ہونا

 

اگرچہ سعید بن مسیب کی عمر رضی اللہ عنہ سے اکثر روایات میں انقطاع ہے لیکن اس کے باوجود محدثین نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی اغلب  مرسل روایات کو خصوصا حجت تسلیم کیا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں:

اول:  سعید کی مراسیل حجت ہیں

سعید بن مسیب کا شمار کبار ثقہ ائمہ تابعین میں ہوتا ہےاور وہ اپنی روایات بھی صحابہ کرام اور دیگر کبار ثقہ تابعین سے اخذ کرتے تھے، اس لئے ائمہ حدیث نے اس بات پر اتفاق نقل کیا ہے کہ ان کی مراسیل سب سے اصح اور غالب طور پر حجت ہیں۔

تو جب ان کی مراسیل کا یہ مقام ہے جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں جن کا زمانہ انہوں نے نہیں پایا، تو عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت کا کیا حال ہو گا جبکہ انہوں نے ان کا زمانہ بھی پایا اور ان سے مختصر سماع بھی کیا؟

ان کی مراسیل پر محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں:

1-   امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:

"مرسلات سعيد بن المسيب أصح المرسلات"

(المعرفہ والتاریخ: 3/239-240، ومن طریقہ الخطیب فی الکفایہ: ص 571، واسنادہ صحیح)

اور ایک جگہ فرمایا:

"مرسلات سعيد بن المسيب صحاح، لا نرى أصح من مرسلاته"

(السنن الکبری للبیہقی: 6/42، واسنادہ صحیح)

2-    امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا:

"مرسلات سعيد بن المسيب أحسن من مرسلات الحسن"

(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 957)

اور ایک جگہ فرمایا:

"أصح المراسيل مراسيل سعيد بن المسيب"

(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص 26، والکفایہ للخطیب: ص 571، واسنادہ صحیح)

3-    امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"ليس المنقطع بشيء، ما عدا منقطع ابن المسيب"

"منقطع روایت کوئی چیز نہیں ہے (یعنی ضعیف ہے) سوائے ابن المسیب کی منقطع کے"

(ابن ابی حاتم فی آداب الشافعی ومناقبہ: ص 232 ومن طریقہ الخظیب فی الفقیہ والمتفقہ: 1/533، واسنادہ صحیح)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"إرسال ابن المسيب عندنا حسن"

"ابن المسیب کا ارسال ہمارے نزدیک حسن ہے"

(مختصر المزنی: ص 78، والکفایہ للخطیب: ص 571)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"قال فكيف قبلتم عن ابن المسيب منقطعا، ولم تقبلوه عن غيره؟ . قلنا: لا نحفظ أن ابن المسيب روى منقطعا إلا وجدنا ما يدل على تسديده، ولا أثره عن أحد فيما عرفناه عنه إلا ثقة معروف فمن كان بمثل حاله قبلنا منقطعه"

"کہا: آپ بن المسیب کی منقطع روایت کو کیوں قبول کرتے ہیں، جبکہ آپ کسی اور کی منقطع قبول نہیں کرتے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ: ہمارے پاس ابن المسیب کی کوئی ایسی روایت محفوظ نہیں جسے انہوں نے منقطع بیان کیا ہو الا یہ کہ اس کی تسدید (تصحیح) کی دلیل بھی ہمیں مل گئی، اور نہ انہوں نے اپنی روایت کسی ایسے شخص سے بیان کی جہاں تک ہمیں علم ہے جو ثقہ معروف نہ ہو۔  تو جس کا حال اس جیسا ہو، ہم اس کی منقطع روایت کو قبول کرتے ہیں۔"

(الام للشافعی: 3/192)

4-    امام حاکم رحمہ اللہ ابن المسیب کی مراسیل کے صحیح ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"تأمل الأئمة المتقدمون مراسيله، فوجدوها بإسانيد صحيحة"

"ائمہ متقدمین نے ان کی مراسیل کی تحقیق کی تو انہیں صحیح اسانید سے پایا۔"

(معرفہ علوم الحدیث: ص 26)

5-    امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"مرسل سعيد بن المسيب وهو أصح التابعين إرسالا "

(السنن الکبری للبیہقی:1978، 1830، 2058)

6-    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے فرمایا:

"وأما الإرسال فكل من عرف بالأخذ عن الضعفاء والمسامحة في ذلك لم يحتج بما أرسله تابعيا كان أو من دونه وكل من عرف أنه لا يأخذ إلا عن ثقة فتدليسه ومرسله مقبول فمراسيل سعيد بن المسيب ومحمد بن سيرين وإبراهيم النخعي عندهم صحاح"

(التمہید: 1/30)

7-    امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"هذا حديث مرسل ومراسيل سعيد محتج بها"

(سیر اعلام النبلاء: 4/221)

8-    امام ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"أما مراسيل ابن المسيب فهي أصح المراسيل"

(شرح علل الترمذی: 1/200)

اور ایک دوسری جگہ فرمایا:

"عن سعيد بن المسيب - مرسلا -، وهو من أجود المراسيل"

(فتح الباری لابن رجب: 9/143-144)

9-    حافظ علائی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"وقد اتفقت كلمتهم على سعيد بن المسيب وأن جميع مراسيله صحيحة وأنه كان لا يرسل إلا عن ثقة من كبار التابعين أو صحابي معروف قال معنى ذلك بعبارات مختلفة جماعة من الأئمة منهم مالك ويحيى بن سعيد القطان وأحمد بن حنبل وعلي بن المديني ويحيى بن معين وغيرهم "

(جامع التحصیل: 1/88)

ایک دوسری جگہ فرمایا:

"سعيد بن المسيب أحد الأئمة الكبار المحتج بمراسيلهم"

(جامع التحصیل: 1/184)

10-           حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا:

"أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار اتفقوا على أن مرسلاته أصح المراسيل"

(تقریب التہذیب: 2396)

دوم: سعید نے عمر رضی اللہ عنہ کے اقوال کا خاص اہتمام کیا ہے

سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اقوال وفتاوی کا خاص اہتمام کیا ہے، یہاں تک کہ انہیں عمر رضی اللہ عنہ کے اقوال وروایات میں تمام لوگوں میں سب سے بڑا عالم کہا جاتا ہے۔ اور ان کی مرسل روایت کو حکما متصل قرار دیا گیا۔

1-   امام مالک نے فرمایا:

"كان عبد الله بن عمر ليرسل إلى سعيد بن المسيب يسأله عن القضاء من أقضية عمر بن الخطاب"

"عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب کی طرف سوال بھیجا کرتے تھے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے"

(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ: 2/112)

اسی طرح امام یحیی بن سعید الانصاری نے فرمایا:

"كان عبد الله بن عمر إذا سئل عن الشيء يشكل عليه قال سلوا سعيد بن المسيب فإنه قد جالس الصالحين"

"عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب کوئی ایسا سوال پوچھا جاتا جو انہیں مشکل معلوم ہوتا، تو وہ کہتے کہ (جاؤ) سعید بن مسیب سے پوچھو، کیونکہ وہ صالحین کی (صحبت) میں بیٹھے ہیں۔"

(المعرفہ والتاریخ: 1/475، واسنادہ حسن)

اسی طرح امام  سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"سئل ابن عمر عن شيء فقال ائت سعيد بن المسيب، فسله، ثم أخبرنا بالمسألة، فتوجه الرجل، فسأل سعيدا فأفتاه بمثل ما أخبرنا ابن عمر، ثم رجع إليه فأخبره أنه أفتاه بمثل ما قال ابن عمر فقال ابن عمر: قد أعلمتكم أنه أحد العلماء."

"ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سعید بن مسیب سے پوچھو، پھر انہوں نے ہمیں مسئلہ بتایا۔ پھر وہ شخص متوجہ ہوا اور سعید سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اس مسئلے میں ویسا ہی فتوی جیسا ابن عمر نے ہمیں بتایا۔ پھر وہ شخص ان کے پاس واپس آیا اور بتایا کہ اس مسئلےمیں سعید نے ویسا ہی فتوی دیا ہے جیسا ابن عمر نے دیا ہے، تو ابن عمر نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو بتایا تھا کہ سعید علماء میں سے ہیں۔"

(تاریخ ابن زرعہ الدمشقی: ص 404، واسنادہ صحیح)

تبصرہ:

کسی بھی شخص کے لئے اس سے بڑی توثیق نہیں ہو سکتی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو خود ایک صحابی ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ان کے ساتھ رہنے والے اور ان کے اہل بیت میں سے ہیں، وہ عمر رضی اللہ عنہ کے اقوال اور قضایا کے علم کے لئے ایک ایسے شخص سے سوال کریں جو عمر رضی اللہ عنہ کے نہ آل بیت میں سے ہے، اور نہ ہی ان کے قریبی ساتھیوں میں سے، بلکہ انہوں نے نہ ہی ان کی زندگی میں سے کچھ زمانہ پایا سوائے کچھ وقت کے۔

سعید بن مسیب کی عمر رضی اللہ عنہ کے اقوال وقضایا کی نسبت سے روایات کے حجت ہونے میں اس سے بڑی دلیل اور کوئی نہیں ہو سکتی۔

2-    امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ولد في زمان عمر فلما كبر أكب على المسألة عن شأنه وأمره حتى كأنه رآه. قال مالك: بلغني أن عبد الله بن عمر كان يرسل إلى ابن المسيب يسأله عن بعض شأن عمر وأمره"

" وہ ان کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ اور جب وہ بڑے ہوئے تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے حال واحوال کو از بر کر لیا، حتی کہ جیسے انہوں نے انہیں دیکھا ہو (یعنی جیسے انہوں نے وہ سب خود عمر رضی اللہ عنہ سے اخذ کیا ہو)۔

مالک کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب کی طرف پیغام بھیجا کرتے تھے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ کی شان اور امور کے متعلق سوال کیا کرتے تھے۔"

(المعرفہ والتاریخ: 1/468، واسنادہ حسن)

اور ایک دوسری روای میں امام مالک نے فرمایا:

"كان يقال لسعيد بن المسيب: "راوية عمر"، قال: وكان يتبع أقضيته يتعلمها"

"سعید بن مسیب کو عمر رضی اللہ عنہ کا راوی کہا جاتا تھا۔ اور وہ ان کے فیصلوں کی چھان کیا کرتے تھے اور انہیں سیکھا کرتے تھے۔"

(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ، السفر الثالث: 2/111، واسنادہ صحیح)

3-    امام مالک اور امام لیث بن سعد روایت کرتے ہیں کہ امام یحیی بن سعید الانصاری نے فرمایا:

"كان يقال ابن المسيب راوية عمر لأنه كان أحفظ الناس لأحكامه وأقضيته"

"ابن المسیب کو عمر رضی اللہ عنہ کا راوی کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ ان کے احکام اور اقضیہ کے تمام لوگوں میں سب سے بڑے حافظ تھے"

(الطبقات الکبری: 9/91، المعرفہ والتاریخ: 1/470)

4-    امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے خود فرمایا:

"ما بقي أحد أعلم بكلِّ قضاءٍ قضاه رسول الله، وكل قضاءٍ قضاه أبو بكر، وكل قضاءٍ قضاه عمر - قَالَ: وأحسبه قَالَ وعُثْمَان - منِّي"

"ایسا کوئی شخص نہیں بچا ہے جو  رسول اللہ ﷺ کے کئے ہوئے ہر فیصلے، ابو بکر کے کئے ہوئے ہر فیصلے، اور عمر کے کئے ہوئے ہر فیصلے، کو جانتا ہو سوائے میرے۔ راوی کہتا ہے کہ شاید انہوں نے عثمان کا بھی ذکر کیا (رضی اللہ عنہم)۔"

(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ، السفر الثالث: 2/111، الطبقات الکبری لابن سعد: 5/90-91، واسنادہ صحیح)

5-    چنانچہ اسی لئے ان کے عمر رضی اللہ عنہ سے عمومی ادراک کے سبب اور ان کی عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی صحت کی وجہ سے امام احمد نے فرمایا:

"هو عندنا حجة، قد رأى عمر وسمع منه، إذا لم يقبل سعيد عن عمر فمن يقبل؟"

 "وہ ہمارے نزدیک حجت ہیں، انہوں نے عمر کو دیکھا اور ان سے سنا ہے۔ اگر سعید کی روایت عمر رضی اللہ عنہ سے قبول نہیں کی جائے گی تو پھر کس کی قبول ہو گی؟"

(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 4/61)

6-    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے فرمایا:

"ورواية سعيد بن المسيب عن عمر قد تكلمنا فيها في غير هذا الموضع وأنها تجري مجرى المتصل وجائز الاحتجاج بها عندهم "

"سعید بن مسیب کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت – اس پر ہم دوسری جگہ پر بحث کر چکے ہیں – متصل کے حکم میں جاتی ہے، اور اس سے احتجاج محدثین کے نزدیک جائز ہے۔"

(التمہید: 12/116)

7-    امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

"ولو كانت منقطعة فهذا الانقطاع غير مؤثر عند الأئمة فإن سعيدا أعلم الخلق بأقضية عمر وكان ابنه عبد الله بن عمر يسأل سعيدا عنها وسعيد بن المسيب إذا أرسل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل مرسله فكيف إذا روى عن عمر"

"اگر سعید کی عمر سے روایت منقطع بھی ہو تو یہ انقطاع ائمہ کے نزدیک غیر مؤثر ہے کیونکہ سعید عمر رضی اللہ عنہ کی قضایا کے بارے میں تمام خلق سے زیادہ جاننے والے تھے، اور (خود) ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سعید سے ان کے بارے میں پوچھا کرتےتھے۔ سعید بن مسیب جب رسول اللہ ﷺ سے ارسال کریں تو بھی قبول ہوتا ہے، تو کیا خیال ہے جب وہ عمر سے روایت کریں"

(تہذیب سنن ابی داود لابن قیم: 2/114)

لہٰذا سعید کی عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت حجت ہو گی، الا یہ کہ دیگر قرائن کسی روایت کے ضعف پر دلالت کریں۔ واللہ اعلم۔

خاتمہ:

اس بحث کے اختتام پر ممکن ہے کہ بعض اہم امور کا خلاصہ یہاں ذکر کر دیا جائے:

-        سعید بن مسیب امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ اس حساب سےان کی ولادت 15 ھ کو ہوئی۔اور عمر رضی اللہ عنہ کی وفات تک ان کی عمر تقریبا آٹھ سال تھی۔

-        سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے  دیکھا ہے اور ان کا کلام بھی سنا ہے، لیکن ان سے براہ راست کوئی روایت محفوظ نہیں کی۔ اس لئے ان سے ان کااصطلاحی سماع ثابت نہیں ہے۔

-        سعید بن مسیب نے عمر رضی اللہ عنہ سے بکثرت روایات بیان کی ہیں اور ان کی قضایا اور فتاوی میں تخصص اختیار کیا۔

-        سعید بن مسیب کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایات عمومی طور پر حجت ہیں الا یہ کہ کوئی دلیل اس کے خلاف مل جائے۔

 

والحمد لله رب العالمين وصل اللهم علي نبينا محمد وعلي آله وصحبه أجمعين.

‏22‏/02‏/2021


Comments